رسائی کے لنکس

استنبول حملہ داعش کی کارروائی تھی، ترکی


ہفتے کو استنبول میں ہونے والے دھماکے کے بعد کا منظر

ہفتے کو استنبول میں ہونے والے دھماکے کے بعد کا منظر

ملزم کے اہلِ خانہ کے مطابق وہ 2013ء میں استنبول گیا تھا جہاں سے وہ لاپتہ ہوگیا تھا۔ اہلِ خانہ نے ملزم کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔

ترکی کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ ہفتے کو استنبول کے ایک بازار میں ہونے والا خود کش حملہ شدت پسند تنظیم داعش کے ایک ترک رکن نے کیا تھا۔

اتوار کو استنبول میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ ایفکان اعلیٰ نے بتایا کہ خود کش حملہ آور کی شناخت 26 سالہ مہمت اوزترک کے نام سے ہوئی ہے۔

ترک وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ملزم ترکی کے جنوبی صوبے گازیان تیپ کا رہائشی تھا اور اس کے داعش سے تعلق کے شواہد مل گئے ہیں۔

ایفکان اعلیٰ کے مطابق حملہ آور کی شناخت اس کی لاش سے لیے گئے ڈی این اے کے نمونے سے کی گئی ہے۔ انہوں بتایا کہ حملے کی تفتیش کی جارہی ہے اور حکام نے پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ترک حکام کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور کے والد اور بھائی سے بھی پولیس نے پوچھ گچھ کی ہے۔ ملزم کے اہلِ خانہ کے مطابق وہ 2013ء میں استنبول گیا تھا جہاں سے وہ لاپتہ ہوگیا تھا۔ اہلِ خانہ نے ملزم کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔

ہفتے کو استنبول کے مشہور ترین بازار استقلال اسٹریٹ پر ہونے والے خود کش حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں دو امریکی، دو اسرائیلی اور ایک ایرانی شہری شامل تھا۔

ترکی میں رواں سال ہونے والا یہ چوتھا خود کش حملہ تھا جن میں مجموعی طور پر اب تک 80 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ان چار خود کش حملوں کے علاوہ کرد علیحدگی پسند بھی ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں دو کار بم دھماکے کرچکے ہیں جن میں 66 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہفتے کو ہونے والےحملے کے بعد اور ترکی کی کرد اقلیت کی جانب سے منائے جانے والے نوروز کے تہوار کی آمد کے باعث استنبول سمیت ترکی کے دیگر بڑے شہروں اور ملک کے کرد اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے نوروز کے جشن کے موقع پر کرد علیحدگی پسندوں اور ترک سکیورٹی اہلکاروں میں جھڑپوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے جس کے باعث ملک بھر میں دو لاکھ سے زائد پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG