رسائی کے لنکس

پشاور مینا بازار بم حملے میں ملوث مشتبہ شخص اٹلی میں گرفتار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پولیس حکام کا ماننا ہے کہ اس شخص نے ایک مبینہ خودکش بمبار کو پناہ بھی رکھی تھی جس نے اٹلی میں دہشت گرد کارروائی کرنی تھی۔

اٹلی کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے چھ سال قبل پشاور میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ملوث ایک مشتبہ پاکستانی شخص کو روم سے گرفتار کیا ہے۔

اکتوبر 2009ء میں پشاور کے مینا بازار میں ہونے والے کار بم دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت کم ازکم 134 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اسے ملکی تاریخ کے بدترین دہشت گرد واقعات میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق پولیس نے مشتبہ شخص کو فیومیسینو ایئرپورٹ سے گرفتار کیا۔

پولیس حکام کا ماننا ہے کہ اس شخص نے ایک مبینہ خودکش بمبار کو پناہ بھی رکھی تھی جس نے اٹلی میں دہشت گرد کارروائی کرنی تھی۔

گرفتار کیے گئے شخص کا نام اور دیگر تفصیلات فی الوقت فراہم نہیں کی گئیں۔

رواں برس اپریل میں بھی اٹلی کی پولیس نے ایک دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ لگا کر کم ازکم نو افراد کو گرفتار کیا تھا اور حکام کے بقول یہ ویٹیکن میں ممکنہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ان افراد میں پاکستانی اور افغان باشندے بھی شامل تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ 18 افراد کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے گئے تھے جن میں سے نو کو حراست میں لیا جا سکا جب کہ باقی اٹلی چھوڑ کر جا چکے تھے۔

ان افراد میں بعض کے بارے میں پولیس نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ وہ پشاور میں ہونے والے بم حملے میں مبینہ طور پر ملوث رہے۔

XS
SM
MD
LG