رسائی کے لنکس

39سالہ رینزی اٹلی میں سربراہ حکومت کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے والے اب تک کے سب سے کم عمر سیاستدان ہیں؛ اور اُن کی 16 رکنی کابینہ میں اکثریت نوجوانوں کی ہے

نوجوان سیاستداں، میتیو رینزی اٹلی کی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر اعظم بن گئے ہیں۔ انقلابی سوچ رکھنے والے میتیو رینزی اطالوی شہر فلورنس کے مئیر رہے ہیں۔ انھیں ملک کی سب سے طاقتور تنظیم ڈیمو کریٹک کا سربراہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ چند روز قبل، انھیں صدر جورجیونا پولیتانو نے نئی حکومت کے تشکیل کی باقاعدہ دعوت دی تھی .
ذرائع ابلاغ کے مطابق، ہفتے کے روز اٹلی کے نئے وزیر اعظم میتیو رینزی کی قیادت میں کابینہ کے نومنتخب ارکان نے صدر سے حلف اٹھا کر اپنے فرائض سنبھال لیے ہیں۔ نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے رینزی پیر کے روز پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔
میتیو رینزی کو ان ہی کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابقہ وزیراعظم اینریکولیتا کے مستعفی ہونے کے بعد صدر پولیتانو نے حکومت سازی کی دعوت دی تھی۔
39سالہ رینزی اٹلی میں سربراہ حکومت کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے والے اب تک کے سب سے کم عمر سیاستدان ہیں۔ ان کی 16 رکنی کابینہ میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جن کی اوسطاً عمریں 48 برس کے لگ بھگ ہیں، جس میں تقریبا نصف تعداد خواتین وزراء کی ہے جو اطالوی حکومت کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔
بی بی سی کے مطابق، میتیو رینزی ایک کرسماتی شخصیت رکھنے والے سیاستدان ہیں جنھوں نے بائیں بازو کی طاقتور تنظیم کی قیادت سنبھالنے کے چند ہی ہفتوں بعد اٹلی کی نئی حکومت بنانے کے لیے کہا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میتیو رینزی فلورنس کے مئیر کی حیثیت سے اپنے سیاسی سفر کے عروج پر تھے۔ لیکن وہ کبھی پارلیمنٹ کے رکن نہیں رہے۔ تاہم، ان کی عوامی مقبولیت کو نسلی تبدیلی کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنھیں ملک کے کسی بھی سیاستدان کے مقابلے میں سب سے زیادہ پسندیدگی حاصل ہوئی ہے۔
نوجوان پارٹی رہنما کو پوری اطالوی سیاسی اسٹبلیشمنٹ جو بڑے پیمانے پر بدنام اور کرپشن سے دغدار ہو چکی تھی،اصلاحات کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے بعض اوقات 'روتا ماتورا' یا اسکریپر کی عرفیت سے بھی پکارا جاتا ہے ۔
رینزی کی شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں عزم اور توانائی کی کمی نہیں ہے۔ وہ سادہ رہنا پسند کرتے ہیں اور اکثر جینس اور شرٹ میں اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔ زیادہ تر قریبی سفر کے لیے چھوٹی کار یا بائسیکل استعمال کرتے ہیں۔ بے حد مطمئین اور سادہ شخصیت رکھنے والے رینزی کی گفتگو میں تیزی اور روانی ہے وہ کسی نوٹ کے بغیر تقریر کرتے ہیں۔ انھوں نے اٹلی کے بہت سے مسائل کے حل کے لیے وسیع تر صفایا کی پیشکش کی ہے۔
اٹلی اب بھی گہری کساد بازاری سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں بے روزگاری ریکارڈ سطح کو چھو رہی ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں بے روزگاری کی سطح 40 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
تاہم، سیاسی ناقدین نئی حکومت میں اس وقت ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے سیاسی پختگی موجود ہے یا نہیں اس پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
نئے اطالوی وزیر اعظم نے اپنی سیاسی ترجیحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا، چار ماہ کے اندر اندر وہ تعلیم ، ملازمت اور ٹیکس کے نظام میں نئی اصلاحات متعارف کرائیں گے جبکہ، مستقبل میں اٹلی میں زیادہ مستحکم حکومت قائم کرنے کے لیے انھوں نے پارلیمنٹ میں انتخابی نظام میں اصلاحات کا مسودہ قانون بھی پیش کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
وزیراعظم کی حیثیت سے نامزد ہونے کے بعد صدارتی محل سے رخصت ہوتے ہوئے اپنی تمام تر توانائی، ہمت عزم اور جوش وخروش کو حکومت کے لیے استعمال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
سیاسی مبصرین کی رائے میں رینزی کی مخلوط حکومت کو دائیں اور بائیں بازو کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ توازن برقرار رکھنے میں ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG