رسائی کے لنکس

اٹلی: پاکستان میں ’دہشت گردی میں ملوث‘ افراد کے خلاف کارروائی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس سلسلے میں مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا اُن کی شہریت کیا۔

اٹلی میں حکام نے بتایا ہے کہ انھوں نے پاکستان میں دہشت گردی اور ویٹیکن پر ناکام حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے شبے میں ایک گروہ کے خلاف کارروائی کی ہے جس میں پاکستانی اور افغان باشندے بھی شامل ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ روم میں پاکستان کا سفارت خانہ اطالوی حکومت سے اس بارے میں رابطے میں ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس سلسلے میں مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور یہ بھی جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا اُن کی شہریت کیا۔

اُدھر اٹلی میں پاکستان کی سفیر تہمینہ جنجوعہ نے وائس آف امریکہ کی ڈیوہ سروس سے انٹرویو میں بتایا کہ وہ اس وقت حراست میں لیے گئے افراد کی شہریت کی تصدیق نہیں کر سکتیں۔

تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ اٹلی میں نوے ہزار پاکستانی مقیم ہیں اور مقامی لوگ کے محنتی ہونے کی تعریف کی ہے۔

اٹلی میں پولیس نے جمعہ کو بتایا کہ پاکستان میں حملوں میں ملوث مشتبہ افراد کی تلاش کے سلسلے میں ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 18 افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، جن میں سے کچھ ویٹکین پر حملے کی منصوبہ بندی میں شامل تھے، واضح رہے کہ ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا۔

اطالوی پولیس کے مطابق ان میں سے دو افراد ایسے ہیں جن پر شبہ ہے کہ وہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے محافظ رہ چکے ہیں۔ بن لادن کو مئی 2011ء میں امریکی اسپیشل فورسز نے ایک خفیہ کارروائی کے دوران پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کر دیا تھا، جہاں وہ روپوش تھا۔

اٹلی کی پولیس نے کہا ہے کہ نو مشتہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جب کہ دیگر ملک چھوڑ چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان مشتبہ افراد کا تعلق پاکستان اور افغانستان سے ہے۔

زیر تفتیش افراد میں سے کچھ ایک کے بارے میں حکام کا ماننا ہے کہ وہ 2009ء میں پاکستانی شہر پشاور کے ایک بازار میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ملوث ہیں۔ اس حملے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستانی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے تمام ملکوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG