رسائی کے لنکس

’گرچہ انتخابات میں مجموعی طور پر ووٹنگ برادری یا قبیلوں کی بنیاد پر ہی ہوگی، جو ہماری روایات رہی ہیں، تاہم، عمومی طور پر اِس میں بہت سے عوامل شامل ہوں گے جن میں لسانیت اور خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور پنجاب کے بعض حصوں میں مذہبی وابستگی شامل ہے‘

پاکستان کے صوبہٴسندھ میں قائم قوم پرست پارٹی، ’قومی عوامی تحریک‘ کے سربراہ، ایاز لطیف پلیجو نے اِس خیال کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے آئندہ انتخابات میں بڑے عوامل میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ بقول اُن کے، عوام حکمراں طبقے سے تنگ آچکے ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں اُنھو ں نے کہا کہ گرچہ انتخابات میں مجموعی طور پر ووٹنگ برادری یا قبیلوں کی بنیاد پر ہی ہوگی، جو ہماری روایات رہی ہیں، تاہم، عمومی طور پر اِس میں بہت سے عوامل شامل ہوں گے جن میں لسانیت اور خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور پنجاب کے بعض حصوں میں مذہبی وابستگی شامل ہے۔

تاہم، اُنھوں نے اِس جانب بھی توجہ دلائی کہ دیہی علاقوں میں اب بھی ووٹرز اپنے قبائلی سردار کی مرضی سے ووٹ ڈالتے ہیں اور اِس میں اُن کی اپنی رضامندی شامل نہیں ہوتی۔

ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے لیے یہ ایک چیلنج ہوگا کہ وہ لوگوں کو اِس بات پر متحرک کریں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ دیں۔

آئندہ انتخابات میں قوم پرست جماعتوں کےامکان پر بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ماضی میں تو قوم پرست گروپ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ تاہم، وہ حکمراں طبقوں کے فیصلوں کو چیلنج کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

اُنھوں نے اِس جانب توجہ دلائی کہ جب معاملہ الیکشن کا آتا ہے تو اُن کے پاس نہ تو کافی وسائل ہوتے ہیں اور نہ ہی جاگیردارانہ پس منظر اُن کے ساتھ ہوتا ہے۔ اِن رکاوٹوں کے باوجود ، جناب پلیجو نے اِس توقع کا اظہار کیا کہ سندھ کی قوم پرست جماعتیں ماضی کے مقابلے میں اچھی کارکردگی دکھائیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ سندھ سے 10قوم پرست جماعتوں کا اتحاد مشترکہ طور پر الیکشن میں حصہ لے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں اُنھوں نے اِس جانب توجہ مبذول کرائی کہ صوبہٴ سندھ کے دیہی علاقوں میں پیپلز پارٹی نے گذشتہ 45برسوں سے ووٹوں پر اجارہ داری قائم کر رکھی تھی اور یہی وجہ ہے کہ ہم دوسری سیاسی جماعتوں مثلاً پاکستان مسلم لیگ (نواز)، اورتحریک انصاف کی صوبہٴ سندھ میں آمد کا خیر مقدم کرتے ہیں، تاکہ سندھ کے ووٹروں کے پاس دوسرے صوبوں کی طرح کئی ایک متبادل موجود ہوں۔
(انٹرویو: قمر عباس جعفری)

XS
SM
MD
LG