رسائی کے لنکس

مصر کے تنازع کا حل علاقائی ممالک کے ہاتھ میں: تجزیہ کار

  • شہناز نفيس

’مصر کی عبوری حکومت نے اپنے وعدے کے برعکس مظاہرین کے خلاف کارروائی کی ہے، جِس سے حالات مزید بگڑ گئے ہیں اور سیاسی مفاہمت کے امکانات کم ہوگئے ہیں‘: ڈاکٹر زبیر اقبال

مصر سے ملنے والی خبروں کے مطابق، بدھ کے دِن سابق صدر مرسی کے حامیوں کے کیمپوں پر فوج کی پُرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت اور ہزاروں لوگوں کے زخمی ہونے کے بعد، صورتِ حال بدستور بگڑتی جارہی ہے۔

مصر کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کے دِن روہنما ہونے والی تشدد کی کارروائیوں میں کم از کم 578 افراد مارے گئے، جبکہ 3700سے زیادہ زخمی ہوئے۔

تاہم، اخوان المسلمین نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4500سے زیادہ بتائی ہے۔

فوج کی پشت پناہی میں قائم عبوری حکومت کےوزیر داخلہ نے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا دفاع کیا ہے اور اُن کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کیمپوں پر کارروائی کے دوران کم سے کم طاقت استعمال کی، اور بقول اُن کے، صرف آنسو گیس کا استعمال کیا۔

ادھر، اخوان المسلمین نے ایسی وڈیو تقسیم کی ہیں جن میں سینکڑوں لاشیں کفن میں لپٹی ہوئی دکھائی گئی ہیں۔

واشنگٹن میں’ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس‘ سے منسلک ڈاکٹر زبیر اقبال کی نظر میں مصر کی عبوری حکومت نے اپنے وعدے کے برعکس مظاہرین کے خلاف کارروائی کی ہے، جِس سے، اُن کے خیال میں، حالات مزید بگڑ گئے ہیں اور سیاسی مفاہمت کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔

مصر کے بگڑے ہوئے حالات میں امریکہ کی ممکنہ پالیسی کےبارے میں ڈاکٹر زبیر اقبال کہتے ہیں کہ لوگوں کے خیالات کے برعکس مصر میں امریکہ کا اثر و رسوخ کافی محدود ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ مصر کے تنازع کا حل علاقائی ممالک کے ہاتھ میں ہے نہ کہ امریکہ یا مغربی ممالک کے پاس۔

ڈاکٹر مشتاق احمد مہر کی نظر میں مستقبل قریب میں مصر کے حالات کا حل نکالنا ممکن نظر نہیں آتا، کیونکہ بقول، اُن کے، مصر کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے واحد حل مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر سیاسی حل نکالنا ہے، جو، اُن کے الفاظ میں، مصر کے اندر اور باہر ماحول سازگار نہ ہونے کی وجہ سے فی الحال ممکن نہیں ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن ظفر طاہر کے خیال میں گرچہ اخوان المسلمین نے عام لوگوں کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ نہیں دی، تاہم اس کے باوجود، بقول اُن کے، امریکہ کو جمہوریت سے منہ نہیں موڑنا چاہیئے۔

صدر براک اوباما نے ایک تازہ ترین بیان میں مصر کی عبوری حکومت اور سکیورٹی فورسز پر اُن کی کارروائیوں کے لیے سخت مذمت کی ہے۔

صدر اوباما نے یہ اعلان بھی کیا کہ مصر کے ساتھ اگلے ہفتے ہونے والی فوجی مشق بھی منسوخ کردی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جبکہ شہری سڑکوں اور گلیوں میں ہلاک کیے جا رہے ہیں اور لوگوں کے حقوق اُن سے چھینے جا رہے ہیں، ایسے میں ہمارا روایتی تعاون جاری نہیں رہ سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ تشدد کا چکر بند ہونا چاہیئے۔

صدر اوباما نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کسی بھی پارٹی یا سیاسی شخصیت کی طرفداری نہیں کرے گا۔

سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں نے مصر کی ابتر ہوتی ہوئے صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے نہ صرف مصر بلکہ علاقے کے لیے بھی پریشان کُن قرار دیا ہے۔

تفصیلی رپورٹ سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG