رسائی کے لنکس

امریکہ طالبان مذاکرات میں ’ہم صرف مددگار ہیں‘: سرتاج عزیز


’پاکستان، برطانیہ اور امریکہ کوشش کر رہے ہیں کہ یہ مذاکرات جلد شروع ہوں اور جلد کسی انجام تک پہنچیں‘

خارجہ اور سلامتی امور پر وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ طالبان امریکہ تعلقات میں پاکستان صرف سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوحہ میں طالبان کے دفتر پرجھنڈے اور تختی کے تنازعہ پر جو تعطل پیش آیا، ان کے بقول، ’وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ عارضی تعطل ہے‘۔

’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’اِن دی نیوز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے، سرتاج عزیز نے کہا کہ پہلے امریکہ اور طالبان کی بات ہوگی، پھراُن کو امن کونسل کو درمیان میں لانا ہے اور پھر افغانستان کے دیرپہ حل کے لیے وہاں کے تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لینا ہوگا۔

اُن کے بقول، اِس کےلیے کوشش کرنی ہوگی کہ شمالی اتحاد کے راہنما یا تو امن کونسل میں شامل ہوں یا پھر براہ راست مذاکرت کا حصہ بنیں۔

مشیر برائے خارجہ اور سکیورٹی امور نے کہا کہ اس عمل میں مشکلات درپیش ہیں۔ مگر پاکستان، برطانیہ اور امریکہ کوشش کر رہے ہیں کہ یہ مذاکرات جلد شروع ہوں اور جلد کسی انجام تک پہنچیں۔

اندرونی سلامتی سے متعلق سوال پر، اُنھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی توجہ پہلے بجلی کے بحران پر رہی ہے اور گزشتہ دو ہفتوں میں انہوں نے چار سے پانچ اجلاسوں میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ اُن کے بقول، بہت جلد حکومت کی اس بارے میں حکمت عملی سامنے آ جائے گی۔

اسلام آباد میں حکومت کی تبدیلی کے بعد برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور پھر ان دنوں برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ کے دورے کے بارے میں سرتاج عزیز نے بتایا کہ یہ دورے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان گہری شراکت داری کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اِن دوروں میں پاکستان کی معیشت کو اہمیت حاصل ہے، جب کہ افغانستان کا تذکرہ بھی ضرور ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئندہ پانچ برسوں میں برطانیہ کے ساتھ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

کیا سرتاج عزیز کو مستقبل قریب کا صدر خیال کیا جا سکتا ہے، اِس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسا کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ کچھ اور لوگوں کا نام بھی اس عہدے کے لیے زیرِ غور ہے اور جلد فیصلہ کرلیا جائے گا۔

تفصیلی انٹرویو سننے کے لیے کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG