رسائی کے لنکس

گیارہ ستمبر 2001ء کے امریکہ پر دہشت گرد حملوں کو ایک عشرہ گزرنے کے بعد، امریکہ اپنے اسٹریٹجک مفادات اور خطرات پر نظر رکھتے ہوئے ایشیا بحر الکاہل کے خطے کواہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، بالخصوص اُن پانیوں پر اُس کی نظر ہے جو چین کے اِرد گِرد ہیں: تجزیہ کار

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کے اس بیان پر کہ امریکہ آئندہ برسوں میں اپنے بیشتر جنگی جہازوں کو ایشیا بحر الکاہل کے خطے میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس موضوع پر اتوار کو’ وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’اِن دی نیوز‘ میں تجزیہ کاروں ڈاکٹر فاروق حسنات اور اسٹریٹفور کے نائب صدر کامران بخاری نےسوالات کے جواب دیے۔

امریکہ کو اُس خطے کے لیے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی ضرورت کیونکر محسوس ہوئی، اِس بارے میں ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا تھا کہ عالمی طاقت کی حیثیت سے امریکہ کے وسیع تر مفادات دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، اور اِس سلسلے میں بلاشبہ ایشیا پیسیفک کا خطہ ایک اہم حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ وہاں پر چین کی بحریہ بھی موجود ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ چین کی بحری فورس اتنی بڑی نہیں جِس پر امریکہ فوری طور پر یہ سمجھے کہ علاقے میں امریکہ کے مفادات کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اِس لیے بھی کہ اِسی خطے میں امریکہ کے اتحادی جاپان اور کوریا بھی موجود ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ، ڈاکٹر فاروق حسنات نے اِس بات کی طرف نشاندہی کی کہ اِس وقت چین اور امریکہ کے آپس میں بہت روابط ہیں۔

اِس ضمن میں، کامران بخاری نےسرد جنگ کے بعد کے دور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سوویت یونین کے خاتمےپر نیٹو کی افادیت کا سوال زیرِ بحث آیا تھا۔ اِسی طریقے سے، اُنھوں نے کہا کہ 11ستمبر 2001ء کے امریکہ پر دہشت گرد حملوں کو ایک عشرہ گزرنے کے بعد، امریکہ اپنے اسٹریٹجک مفادات اور خطرات پر نظر رکھتے ہوئے ایشیا بحر الکاہل کے خطے کواہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، بالخصوص اُن پانیوں پر اُس کی نظر ہے جو چین کے اِرد گِرد ہیں۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG