رسائی کے لنکس

افغان امن پاکستان کے لیے ضروری: سرتاج عزیز

  • قمرعباس جعفری

مشیر برائےامور خارجہ نے بتایا کہ وزیر اعظم نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی پالیسی افغانستان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور کسی خاص گروپ کی حمایت نہ کرنا ہے

وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ، سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ امن اور سکیورٹی کا معاملہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس لیے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سارے اسٹیک ہولڈرز مل کر مفاہمت کا راستہ نکالیں، تاکہ افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد خانہ جنگی نہ ہو، اور امن و امان بحال رہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے خصوصی انٹرویو میں، اُنھوں نے کہا کہ اگلے اپریل میں افغانستان کے نئے انتخابات ہونے والے ہیں، جب کہ اسی سال، نیٹو کی افواج کا ملک سے انخلا ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ امن اور سکیورٹی کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے، جسے مذاکرات کے ذریعے اور جمہوری طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ مل کر آنے والے حالات پر قابو پایا جاسکے۔

افغانستان کے اپنےدورے کے بارے میں، سرتاج عزیز نے بتایا کہ اُن کا مقصد وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے افغان صدر حامد کرزئی کو پاکستان آنے کی دعوت دینا تھا، اور ساتھ ہی، پاکستان کی پالیسی کی وضاحت کرنی تھی۔

اُن کے الفاظ میں، وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کی پالیسی افغانستان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور کسی خاص گروپ کی حمایت نہ کرنا ہے۔

’انٹرا افغان ڈائلاگ‘ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں، امور خارجہ کے مشیر نے کہا کہ اُن کے دورے کے دوران، پاکستان کے خلاف کی جانے والی منفی پروپیگنڈا کی کچھ وضاحت ہوئی۔ اُنھوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا کوئی فارمولا نہیں ہے، نہ اقتدار میں شرکت کا اور نہ کوئی اور۔ یہ افغانوں کا اندرونی معاملہ ہے، ہم تو ڈائلاگ کرنے میں مدد دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

’پہلے یہی کوشش تھی، کہ یہ عمل دوحہ میں شروع ہوجائے۔ ہماری کوشش ہے کہ طالبان اور ہائی پیس کونسل کے وفد کی ملاقات ہو، وہ طے کریں کہ کس سے بات کرنی ہے، کن نکات پر بات ہوگی‘۔

اُنھوں نے کہا کہ کم از کم پاکستان کی پوزیشن واضح ہے۔ نہ ہم مداخلت کرنا چاہتے ہیں، نہی ہم کسی کی طرفداری کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن، یہ طے ہے کہ امن اور سکیورٹی سے ہمارا مفاد وابستہ ہے۔

کیونکہ، اُنھوں کہا کہ، اگر افغانستان میں امن و امان نہ ہو تو پاکستان کے لیے بھی بہت سی مشکلات ہوں گی۔

بھارت کے رول کے بارے میں سوال پر، اُنھوں نے کہا کہ ترقی کے منصوبوں کے سلسلے میں بھارت نے افغانستان میں کافی کام کیا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں، سرتاج عزیز نے کہا کہ امن عمل کے علاوہ، پاکستان و افغانستان کے باہمی تعلقات کی بہت اہمیت ہے، کیونکہ، اُن کے بقول، غیر ملکی تو آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، ہمیں تو ہمیشہ کے لیے ساتھ رہنا ہے۔

تعلقات کی بہتری کے ضمن میں، اُنھوں نے کہا کہ اِن کی بنیاد اقتصادی ہے، اگر تجارت اور سرمایہ کاری زیادہ ہو تو اس کا فائدہ عام آدمی کو پہنچتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ تجارتی راہداری ضمن میں درپیش کچھ مشکلات کے حل کے لیے اُنھوں نے افغان وزیر تجارت کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG