رسائی کے لنکس

پاکستان کے ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہوگا: شاہد برکی

  • بہجت جیلانی

توانائی اور روزگار کی فراہمی کو نمبر ایک اور نمبر دو قومی ترجیحات پر رکھنا سمجھ میں آنے والا معاملہ ہے۔ لیکن اِس کے لیے ٹیکس میں اضافہ کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر نوٹ چھاپنے سے محض افراطِ زر بڑھے گا، جس کا بوجھ آخر ِکار غریب آدمی پر پڑے گا

شاہد جاوید برکی، سابق وزیر خزانہ اور عالمی بینک کےنائب صدر کا کہنا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے ٹیکس بیس کو وسیع کیا جائے، اور بدعنوانی کے خاتمے اور’لیکیجز‘ کو بند کرنے کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے۔

اتوار کے دِن ’وائس آف امریکہ‘ کے ’اِن دی نیوز‘ پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ جب تک ’لیکیجز‘ کو بند نہیں کیا جاتا تب تک اگر ٹیکس باقاعدہ سے ادا بھی ہو پھر بھی اُس کو صحیح معنوں میں جمع کرنا بڑا ہی مشکل کام ہوگا، جس کے لیے، اُنھوں نے ٹیکس مشینری کی اصلاحات پر زور دیا۔

شاہد برکی نے کہا کہ توانائی اور روزگار کی فراہمی کو نمبر ایک اور نمبر دو قومی ترجیحات پر رکھنا سمجھ میں آنے والا معاملہ ہے، لیکن اس کے لیے ٹیکس میں اضافہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر نوٹ چھاپنے کے ذریعے محض افراط زر بڑھے گا، جس کا بوجھ آخر ِکار غریب آدمی پر پڑے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ کئی سالوں سے افراط زر ’ڈبل ڈجٹ‘ پر ہے جسے کنٹرول کیا جانا ضروری ہے۔ اُنھوں نے زرعی ٹیکس عائد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG