رسائی کے لنکس

آئیوری کوسٹ کے بحران کا پرامن حل مشکل ہے: افریقی یونین

  • سکاٹ سٹیرنز

آئیوری کوسٹ کے بحران کا پرامن حل مشکل ہے: افریقی یونین

آئیوری کوسٹ کے بحران کا پرامن حل مشکل ہے: افریقی یونین

افریقی یونین کے ثالث جو آئیوری کوسٹ میں جاری سیاسی بحران کے حل میں مدد کے لیے وہاں موجود تھے، ملک سے واپس چلے گئے ہیں اوربظاہر انتخابی تنازع کے حل میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے دونوں حریف صدور کی حکومتوں کے درمیان جاری تعطل کے پرامن اختتام کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

کینیا کے وزیراعظم رائیلا اوڈنگا آئیوری کوسٹ کے دارالحکومت ابید جان سے واپس چلے ہیں ۔ ان کا کہناہے کہ انہوں نے دونوں حریفوں کے اتھ، یعنی اپنے عہدے پر موجود صدر باگبو اور سابق وزیر اعظم اوتاراجن کی نومبرکے صدارتی انتخابات میں کامیابی بین الاقوامی طور پر تسلیم کی جاچکی ہے، تفصیلی مذاکرات کیے ہیں۔

مسٹر ا وڈنگا کہتے ہیں کہ مذاکرات میں ایسی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جس سے آئیوری کوسٹ کے سیاسی بحران کے حل میں مدد مل سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے مشن کا سب سے اہم مقصد یہ تھا کہ میں مسٹر باگبو کو اس پر قائل کروں کہ ان کی صدارت کو مذاکرات کے ایجنڈے پر لانے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ ان پر زور دوں کہ گلف ہوٹل کی ناکہ بندی ختم کرنا انتہائی اہم ہے۔ مسٹر باگبو نے مجھے گذشتہ نصف شب ناکہ بندی اٹھانے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر ان دوہفتوں کے دوران انہوں نے دوسری بار وعدہ خلافی کی۔

مسٹر باگبوکے وفادار فوجی گلف ہوٹل کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں جہاں مسٹر اوتارا اقوام متحدہ کی جانب سے انتخابی کمشن کے نتائج قبول کیے جانے کے بعد سے مقیم ہیں۔ ان نتائج میں انہیں کامیاب قرار دیا گیاتھا۔

مسٹر باگبو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ صدرمنتخب ہوچکے ہیں کیونکہ آئینی کونسل کی جانب سے اوتارا کے حق میں ڈالے گئے ووٹ مسترد ہوجانے کے بعد ان کے ووٹوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔

افریقی یونین ، اقوام متحدہ ، یورپی یونین اور امریکہ مسٹر اوتارا کی کامیابی تسلیم کرچکے ہیں اور ان کا کہناہے کہ مسٹر باگبو کولازمی طورپر اقتدار سے الگ ہوجانا چاہیے۔

مغربی افریقی ریاستوں کی اقتصادی کمیونٹی کا کہناہے کہ وہ مسٹر باگبو کو نکالنے کے لیے فوجی کارروائی پر غور کررہی ہے۔

مسٹر اوڈینگا کہتے ہیں کہ اگر یہ بحران حل نہ ہوا تو اس ملک پر مزید معاشی اور مالیاتی پاپندیاں عائد کی جائیں گی اور ممکنہ طورپر فوجی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

مسٹر اوڈنگا کہتے ہیں کہ گفت وشنید کے ذریعے ایک دوستانہ حل کا وقت تیزی سے گذر رہاہے۔ مزید یہ کہ اگر مسٹر باگبو کے حامی مسلسل عوام اور امن فوجیوں کے خلاف جرائم کے مرتکب ہوتے رہے تو ان کے لیے معافی کا دروازہ بند ہوتاچلاجائے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون کا کہناہے کہ اقوام متحدہ کے عملے پر مسٹر باگبو کی سیکورٹی فورسز اور ان کی حمامی ملیشیا کی جانب سے حملے کیے جارہے ہیں۔

مسٹر اوڈینگا کا افریقی یونین کامشن گھانا ا، انگولا اوربرکنا فاسوکے صدور سے صلاح مشوروں کے لیے آئیوری کوسٹ سے چلا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG