رسائی کے لنکس

معروف غزل گائیک جگجیت سنگھ انتقال کرگئے


معروف غزل گائیک جگجیت سنگھ انتقال کرگئے

معروف غزل گائیک جگجیت سنگھ انتقال کرگئے

بھارت کے معروف غزل گائیک جگجیت سنگھ کا چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط فنی سفر پیر کی صبح اختتام کو پہنچا۔

دو ہفتے قبل دماغ کی شریان پھٹنے کے باعث انھیں ممبئی کے لیلا وتی اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں بعد ازاں ان کے دو آپریشن بھی کیے گئے مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔ ان کی عمر 70 برس تھی۔

بھارت کے علاوہ پاکستان میں بھی موسیقی کے حلقوں میں ان کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا اور اس سے وابستہ افراد نے جگجیت سنگھ کے انتقال کو غزل گائیکی کے لیے ایک بڑا نقصان قراردیا۔

معروف موسیقار محسن رضا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جگجیت سنگھ نے مہدی حسن اور غلام علی کے بعد غزل گائیکی کو مزید جدت بخشی اور عام فہم دھنیں بنائیں جس سے انھیں دنیا بھرمیں عوام وخواص میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔

’’انھوں (جگجیت سنگھ) نے ولی دکنی، میر تقی میر اور غالب کی شاعری سے نسبتاً آسان کلام کو نہایت دلکش اور عام فہم انداز میں گایا اور جس دورمیں مہدی حسن اور غلام علی کا طوطی بولتا تھا اس میں اپنی الگ پہچان اور مقام بنایا۔‘‘

محسن رضا نے کہا کہ کچھ چیزیں عوام کے لیے ہوتی ہیں اور کچھ صرف فنکاروں کے سننے اور سمجھنے کی۔ ان کے بقول جو پذیرائی جگجیت سنگھ کو عوام میں حاصل ہوئی وہ ان کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔’’اور اگر میں موسیقار کی حیثیت میں بات کروں تو ججگیت سنگھ مشکل پسندی کی طرف نہیں گئے بلکہ لوگوں کو اپنے پیچھے لگایا جو میں سمجھتا ہوں ان کا اپنی جگہ ایک کمال ہے۔‘‘

معروف ستار نواز اور کراچی میں قائم فنون لطیفہ کی درسگاہ ’ناپا‘ کے استاد نفیس احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’ مہدی حسن خان اب گاتے نہیں، غلام علی صاحب بھی بہت زیادہ کام نہیں کررہے تو ایسے میں، میں سمجھتا ہوں کہ جگجیت سنگھ ہی ایک واحد فنکار تھے جو غزل کو پوری مہارت، اس کے تقدس اور معیار کے ساتھ پیش کررہے تھے۔‘‘

ان کے بقول جگجیت سنگھ کی موت سے غزل گائیکی کے فروغ کو شدید دھچکا لگا ہے۔

شہنشاہ غزل مہدی حسن اور ملکہ ترنم نورجہاں کے لیے متعدد لازوال دھنیں ترتیب دینے والے موسیقار محسن رضا کا کہنا تھا کہ ایک بار جگجیت سنگھ نے ان سے فرمائش کی تھی کہ وہ ان کے لیے کچھ دھنیں بنائیں۔’’مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا اور شدید صدمہ پہنچا کہ جگجیت سنگھ اب نہیں رہے اور مجھے افسوس ہورہا ہے کہ میں کچھ وقت نکال کراگر ان کے لیے کچھ تخلیق کرلیتا تو یہ ایک طرح کی یادگار ہوتی ہم فنکاروں کے لیے بھی۔‘‘

نفیس احمد نے جگجیت سنگھ کی شخصیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا’’ وہ بڑے کھلے ڈھلے مزاج اور ہنس مکھ طبیعت کے مالک تھے۔ ان سے کئی پروگراموں کے دوران ملاقات ہوئی تو وہ ہلکی پھلکی گفتگو اور چھوٹے چھوٹے چٹکلوں سے حاضرین کو محظوظ کیے رکھتے تھے۔

جگجیت سنگھ آٹھ فروری 1941ء کو راجستھان کے علاقے شری گنگا نگرمیں ایک پنجابی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1966ء میں اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والے جگجیت سنگھ کو صحیح معنوں میں شہرت 70 کی دہائی میں ملی۔

اردو، ہندی پنجابی، گجراتی، سندھی اور نیپالی زبانوں میں گیتوں کے علاوہ فلموں کے لیے بھی بے شمار غزلیں گائیں۔ شروع میں وہ اپنی اہلیہ چترا سنگھ کے ساتھ جوڑی کی صورت میں گایا کرتے تھے مگر اپنے جواں سال بیٹے کی ایک سڑک حادثے میں ہلاکت کے بعد یہ جوڑی ختم ہوگئی اور چترا سنگھ نے موسیقی سے علیحدگی اختیار کرلی۔

جگجیت سنگھ کو ان کے فن کے اعتراف میں حکومت نے بھارت کا تیسرا بڑا سول اعزاز پدم بھوشن 2003ء میں عطا کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG