رسائی کے لنکس

صوبہ خیبر پختون خواہ کے جنوبی ضلع بنوں کی ایک مرکزی جیل پر شدت پسندوں کے حملے اور خطرناک مجرمان سمیت 380 سے زائد قیدیوں کے فرار کے بعد ناصرف صوبائی حکومت بلکہ سول سوسائٹی کے بعض حلقوں کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ فرار ہونے والے دہشت گرد منظم ہو کر دوبارہ سے مہلک حملے کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں جیل اصلاحات اور قیدیوں کی حالت زار کو بہتر بنانے سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم ’’شارپ‘‘ کے سربراہ لیاقت بنوری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بنوں جیل پر شدت پسندوں کا حملہ یقیناً باعث تشویش ہے کیوں کہ فرار ہونے والوں میں ایسے قیدی بھی شامل ہیں جو ماضی میں دہشت گرد حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

’’دہشت گرد صرف بنوں جیل میں نہیں ہیں بلکہ یہ صوبہ خیبر پختون خواہ اور ملک کے دیگر صوبوں کی جیلوں میں بھی ہیں اور (دہشت گردوں) کے ساتھی بنوں جیل پر حملے کو مثال بنا کر کہیں بھی ایسی کارروائی کر سکتے ہیں۔‘‘

خیبر پختون خواہ حکومت کا کہنا ہے کہ بلاشبہ بنوں جیل پر حملے کے بعد عوامی سطح پر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے لیکن اس کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

اس تناظر میں وزیر داخلہ رحمٰن ملک کی زیر قیادت بدھ کی رات اسلام آباد میں ایک اجلاس میں چاروں صوبوں کے پولیس سربراہان نے بھی شرکت جس میں جیلوں تعینات اہلکاروں کی نفری بڑھانے سمیت حفاظتی انتظامات کو مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

رحمٰن ملک نے بتایا کہ جیلوں میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے اہلکاروں کی تنخواہوں کو محکمہ پولیس کے دیگر شعبوں کے برابر کرنے کے علاوہ انھیں جدید اسلحہ اور تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ مستقبل کسی بھی ایسے ممکنہ حملے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

گزشتہ ہفتے بنوں جیل پر نصف شب کے بعد جدید ہتھیاروں سے لیس درجنوں جنگجوؤں نے حملہ کر کے جن قیدیوں کو فرار کروایا ان میں دہشت گردی اور دیگر جرائم میں ملوث کم از کم 20 ایسے قیدی بھی تھے جن کو موت کی سزا سنائی جا چکی تھی۔

لیکن ان میں سب اہم مجرم سابق صدر پرویز مشرف پر ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث پاکستان فضائیہ کا سابق اہلکار عدنان رشید بھی شامل تھا اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر تمام کارروائی کا اصل مقصد بھی اسی مجرم کو چھڑوانا تھا۔

بنوں جیل پر حملے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ امیر حیدر خان ہوتی نے چار اعلیٰ عہدیداروں کو مبینہ طور پر غفلت برتنے کے جرم میں ان کے عہدوں سے ہٹا کر اصل حقائق جاننے کی ذمہ داری ایک تحقیقاتی ٹیم سونپ رکھی جو عینی شاہدین اور متعلقہ حکام کے بیانات قلمبند کر رہی۔

XS
SM
MD
LG