رسائی کے لنکس

میری لینڈ: ڈاکٹر جلیسی ’ہاؤس آف ڈیلیگیٹس‘ کے رکن منتخب


اُنھوں نے بتایا کہ ڈیلیگیٹ کا انتخاب مقامی سطح کی سیاست ہے، جس کے لیے انتخابی طریقہٴکار سے واقفیت، اشوز کا جاننا اور اُن کی صحیح ترجمانی، خدمت کا جذبہ، جیت کی لگن اور ووٹروں کے ساتھ قریبی رابطہ استوار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے

اِس سال چار نومبر کو امریکی عام انتخابات میں، پاکستانی نژاد، ڈاکٹر جے جلیسی میری لینڈ جنرل اسمبلی میں بطور’ڈیلیگیٹ‘ منتخب ہوئے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک ڈاکٹر، چھوٹے کاروباری اور بالٹیمور کاؤنٹی کے ایک کمیونٹی لیڈر ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، ڈاکٹر جلیسی نے کہا کہ ’سیاست برائے سیاست نہیں، بلکہ کمیونٹی کی خدمت کے لیے سیاست کی جانی چاہیئے‘، اور یہی اُن کی جیت کی اہم وجہ ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ ڈیلیگیٹ کا انتخاب مقامی سطح کی سیاست ہے، جس کے لیے انتخابی طریقہٴکار سے واقفیت، اشوز کا جاننا اور اُن کی صحیح ترجمانی، خدمت کا جذبہ، جیت کی لگن اور ووٹروں کے ساتھ قریبی رابطہ استوار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر جے جلیسی، جن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے، کہا ہے کہ ریاست کی نچلی سطح پر مسائل مقامی نوعیت کے ہوتے ہیں، جن کی درست پرکھ اور ادراک ہونا لازم ہے۔

بالٹیمور کاؤنٹی کے اشوز کے سوال پر، اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے جن مسائل کو اٹھایا وہ ہیں: پبلک ایجوکیشن نظام، روزگار کے بہتر مواقع، ٹیکسز میں کمی، فری میڈیکل، گھروں کے فور کلوزرس، چھت فراہم کرنا اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کوشش کرنا۔ بقول اُن میں، ’اگر لوگوں میں مسائل سے آگہی اور شعور نہیں ہوگا، تو سیاست کامیاب نہیں ہوگی‘۔

ہارورڈ اور جانز ہاپکنز سے تعلیم یافتہ، ڈاکٹر جے جلیسی نے بتایا کہ انتخابی طریقہٴ کار سمجھنے کے بعد، اُنھوں نے ایک سال کی انتخابی مہم چلائی، جس دوران، اُنھوں نے گھر گھر جاکر کر، 15 سے 20 ہزار لوگوں سے رابطہ کیا؛ اور 40 سے 50 ہزار افراد کو ٹیلی فون کیے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’جیت کے لیے پیسا بھی درکار ہے، لیکن پیسا ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ پھر، یہ کہ آپ مقامی سطح کے اشوز سامنے لائیں، بڑی قومی سطح کے معاملات پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مقامی سیاست میں آپ کا تعلق مقامی معاملات سے ہی ہوتا ہے‘۔

کمیونٹی خدمت پر مبنی سیاست پر ایک سوال کے جواب میں، اُنھوں نے کہا کہ تارکین وطن امریکہ میں رہنے کے باوجود، اپنی ہی محدود برادریوں میں بٹے رہتے ہیں، وہی دِن مناتے ہیں اور وہی رشتے ناطے نبھاتے ہیں۔ بقول اُن کے، اس روش کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ مقامی لوگوں میں وقت صرف کرنا ہوگا اور کمیونٹی سروس میں شرکت کرنی ہوگی، جس انداز کے اپنانے سے ہی، ہم اپنے آپ کو قابلِ قبول بناسکتے ہیں۔

ڈاکٹر جلیسی نے کہا کہ اُن کی کاؤنٹی میں اُنھوں نے جو انتخابی اتحاد تشکیل دیا، اُس میں مسلمان، ہندو، مسیحی اور یہودی شامل تھے۔

ایک اور سوال کے جواب میں، اُنھوں نے بتایا کہ امریکہ میں نسلی یا مذہبی امتیاز میں یقین رکھنے والے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بقول اُن کے، یہاں لوگ کام، لگن اور پروگرام کو دیکھتے ہیں، زیادہ تر اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا آیا امیدوار کا تعلق کہاں سے ہے۔

XS
SM
MD
LG