رسائی کے لنکس

جمیکا کے عالم کو لازماً ملک بدر کر دینا چاہئیے: کینیا



کینیا میں جمیکا کے ایک مسلمان عالم کی گرفتاری پر تشدّد آمیز احتجاجی مظاہروں کے ایک دن بعد ملک کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ اُس عالم کو جس قدر جلد ممکن ہو، لازماً کینیا سے نکال دینا چاہئیے۔

کینیا کے داخلی سلامتی کے وزیر جارج سَیتوتی نے کہا ہے یہ بات توہین آمیز ہے کہ کوئى غیر ملکی کینیا میں آئے اور اُس کی آمد کے نتیجے میں املاک تباہ ہوں اور لوگ زخمی ہوں۔

نیروبی میں جمعے کے روز باہر سے آئے ہوئے انتہا پسند عالم عبداللہ الفیصل کی گرفتاری کے بعد جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔

فیصل کی گرفتاری پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے ایک گروپ پر پولیس کے فائرنگ سے کم سے کم دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ انسانی حقوق کی ایک مسلم تنظیم کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن غیر جانب دار ذرائع سے اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

سَیتوتی نے کہا ہے کہ جمعے کے اُ ن مظاہروں میں ہوسکتا ہے کہ صومالیہ کی انتہا پسند تنظیم الشّباب کے حامیوں نے شرکت کی ہو۔

امریکہ الشّباب کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے اور اُس کا کہنا ہے کہ اس کا القاعدہ سے تعلق ہے۔

جمعے کے مظاہروں میں بہت سے صومالی نژاد لوگوں نے بھی شرکت کی تھی۔ کینیا میں ہزاروں صومالی پناہ گزین مقیم ہیں۔

فیصل، جو جمیکا میں پیدا ہوا تھا، ایک متنازع شخصیت ہے۔ وہ اس سے پہلے برطانیہ میں مغربی لوگوں، یہودیوں اور ہندوؤں کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں قید کاٹ چکا ہے۔ دہشت گردوں کی ایک عالمی فہرست میں بھی اُس کا نام ہے۔

کینیا کی حکومت فیصل کو کینیا بھیجنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ لیکن ابھی تک کوئى بھی ایسا ملک اُسے راہ داری کے لیے ویزا دینے پر آمادہ نہیں ہوا، جہاں پہنچ کر وہ جمیکا جانے والی کوئى پرواز پکڑ سکے۔

اُس کے حامیوں کو شکایت ہے کہ اُسے کوئى الزام عائد کیے بغیر غیر منصفانہ طور پر حراست میں رکھا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG