رسائی کے لنکس

محمد علی 'اسلام کے سفیر تھے'


محمد علی کی میت کو کنٹکی کے شہر لوئیول کے فریڈم ہال میں نماز جنازہ کے لیے لایا جا رہا ہے۔

محمد علی کی میت کو کنٹکی کے شہر لوئیول کے فریڈم ہال میں نماز جنازہ کے لیے لایا جا رہا ہے۔

شہری حقوق کے علمبردار جیسی جیکسن نے کہا کہ جنازے کی تقریب نے اس بات کی دوبارہ توثیق کی ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔

امریکی ریاست کنٹکی میں ’’معروف ترین امریکی مسلمان‘‘ محمد علی کے آبائی شہر لوئیول میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

واشنگٹن کے قریب واقع امریکہ کی ایک بڑی مسجد کے امام محمد ماجد بھی نماز جنازہ میں شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’محمد علی سے پہلے امریکہ کے لوگ اسلام کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔‘‘

’’انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ دنیا میں کتنے مسلمان ہیں، وہ کون ہیں، مگر محمد علی یہ معلومات سامنے لے کر آئے۔ وہ اب تک سب سے معروف امریکی مسلمان ہیں۔‘‘

ایک مسلمان خاتون محمد علی کے لیے دعاگو ہے۔

ایک مسلمان خاتون محمد علی کے لیے دعاگو ہے۔

لوئیول کے فریڈم ہال میں نماز جنازہ میں شریک ہونے والے دیگر بہت سے لوگوں کی طرح محمد ماجد امریکہ کے مقامی شہری نہیں۔

وہ 1988 میں سوڈان سے امریکہ آئے اور اب واشنگٹن کے قریب ایک مسلم سوسائٹی میں 30,000 سوڈانی مسلمانوں کی امامت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے رعشہ کی بیماری میں پیچیدگیوں سے وفات پانے والے معروف سابق باکسر کے جنازے میں جو بات محمد ماجد کو سب سے اچھی لگی وہ یہ تھی کہ اس میں پوری دنیا سے مسلمان آئے تھے۔

’’شیعہ، سنی، سلفی، صوفی، کوئی بھی نام لیں، سب یہاں موجود ہیں۔ یہ ہے محمد علی۔‘‘

محمد ماجد نے محمد علی سے دو مرتبہ ملاقات کی تھی۔ ان میں سے ایک ملاقات سوڈان میں ہوئی جہاں سوڈانیوں نے اس عظیم باکسر کا ایسے استقبال کیا جیسے وہ انہی میں سے ایک ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد علی سوڈان میں جانا پہچانا نام تھا۔

محمد ماجد نے بتایا کہ ’’ہم محمد علی کے خوبصورت نام کے ساتھ پلے بڑھے۔ اگر

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان بھی نماز جنازہ میں شریک ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان بھی نماز جنازہ میں شریک ہیں۔

کوئی بہت پراعتماد اور پرزور ہوتا تو لوگ کہتے ’کیا؟ تم کیا خود کو محمد علی سمجھتے ہو؟‘ محمد علی کی سوڈان میں پلنے والے نوجوانوں میں اتنی عزت تھی۔‘‘

اس جنازے سے ناصرف فریڈم ہال میں اچھا تاثر پیدا ہوا بلکہ ممکنہ طور پر یہ تاثر دنیا بھر میں پھیلا۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی چیئرپرسن رولا الوچ نے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ انصاف اور حق کے علمبردار کے طور پر (علی) نے ہمیشہ ہمارے دین کے سفیر کا کام کیا اور ان کے گزر جانے کے بعد بھی یہ جاری ہے، وہ اسی حیثیت میں کام کر رہے ہیں۔"

’’ملک اور دنیا بھر سے اتنے سارے لوگ اسلامی جنازے کا منظر دیکھ سکیں گے اور اس ملک اور دنیا کے مسلمانوں کو ان کے لیے دعا کرتے دیکھ سکیں گے۔‘‘

شہری حقوق کے علمبردار جیسی جیکسن نے کہا کہ جنازے کی تقریب نے اس بات کی دوبارہ توثیق کی ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔

جیسی جیکسن جنازے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کر رہے ہیں۔

جیسی جیکسن جنازے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کر رہے ہیں۔

’’تین عظیم مذاہب، یہودیت، مسیحیت اور اسلام امن کے مذاہب ہیں اور ان مذاہب کے نام پر کچھ بدنما چیزیں ہوئی ہیں۔ مگر یہ مذاہب دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ علی کی توثیق کرنے کا مطلب اس کے عقیدے کی توثیق کرنا ہے۔‘‘

جنازے کی سب سے اہم چیز مسلمانوں کا آنجہانی باکسر کے لیے دعا میں شریک ہونا تھا۔ جو لوگ فریڈم ہال میں جمع نہ ہو سکے وہ اپنے ’’محبوب دوست‘‘ کے لیے ملک بھر اور دنیا بھر میں اپنے طور پر دعا کر رہے تھے۔

ایک مسلمان امریکی نادیہ حسن بھی محمد علی کے دوست اپنے مرحوم والد اور چچا کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے لیے دعا میں شریک ہوئیں۔

’’میں یہاں حسن خاندان کی نمائندگی کے لیے آئی ہوں اور ہم یہاں علی خاندان سے تعزیت کے لیے جمع ہیں۔‘‘

محمد علی کی بیٹی لیلیٰ علی (دائیں) اور اہلیہ لونی علی۔

محمد علی کی بیٹی لیلیٰ علی (دائیں) اور اہلیہ لونی علی۔

نادیہ نے محمد علی کے ساتھ بچپن کی ایک تصویر اٹھائی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا ماحول عموماً مسلم دوست نہیں، مگر وہ محمد علی کے پیغام کو لے کر چل رہی ہیں جنہوں نے منظم نسل پرستی اور ناانصافی کے خلاف جنگ کرتے ہوئے حق کے لیے آواز بلند کی۔

یہ کہتے ہوئے نادیہ کی آواز رندھ گئی کہ ’’میں اپنے اندر یہ اقدار لے کر چل رہی ہوں اور میں ان کے پیغام کی روح کے ساتھ زندہ ہوں۔‘‘

XS
SM
MD
LG