رسائی کے لنکس

وزیر اعظم شنزو ایبے نے حکومت کی تعمیر نو کی کوششوں کی تعریف کی تاہم انہوں نے کہا کہ زندہ بچ جانے والے متاثرین کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

جاپان میں 2011ء میں آنے والے زلزلے اور سونامی کی بدھ کو چوتھی برسی منائی جارہی ہے۔ چار سال قبل آنے والے اس ہولناک زلزلے اور سونامی سے 19,000 سے زائد افراد ہلاک و لاپتا ہو گئے تھے اور جس کی باعث فوکو شیماکے جوہری توانائی کے پلانٹ کوبھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

ملک میں اس زلزے اور سونامی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں تقریبات منعقد کی گئیں اور ملک بھر میں عین اسی لمحے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جب چار سال قبل یہ شدید زلزلہ آیا تھا۔

ٹوکیو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شنزو ایبے نے حکومت کی تعمیر نو کی کوششوں کی تعریف کی تاہم انہوں نے کہا کہ زندہ بچ جانے والے متاثرین کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں تمام زندہ بچ جانے والوں کے لیے دلی ہمدردی کا اظہار کروں گا۔ ہر بار جب میں آفت زدہ علاقوں کا دورہ کرتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ تعمیر نو کا کام زیادہ پائیداری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ متاثرین کے گھروں کی تعمیر اور ان کو بلند سطح پر منتقل کرنے کا کام پائیدار طریقے سے جاری ہے اور تعمیر نو ( کا کام) ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے"۔

جاپان کے شہنشاہ ایکی ہیٹو بھی اس تقریب میں شریک تھے۔ انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ کئی زندہ بچ جانے والوں کے لیے اب بھی حالات مشکل ہیں۔ "آگے بڑھنے کے لیے یہ اہم ہے کہ اس قوم کے تمام افراد دل سے دل ملا کر اکھٹے ہو کر زندہ بچ جانے والوں کے ساتھ کھڑے ہوں"۔

صوبہ میاگی کے شہر اشینوماکی میں زلزلے کے مرکز کے قریب ایک عارضی یادگار پر بدھ راہبوں اور ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کے افراد نے دعا کی۔

جاپان میں 11 مارچ 2011 کو دو پہر دو بج کر چھیالیس منٹ پر آنے والے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 9 تھی جو کہ جاپان میں اب تک ریکارڈ کیے جانے والے زلزلوں میں سب سے زیادہ شدید تھا۔ زیر سمندر آنے والے زلزلے کے باعث آنے والی سونامی سے کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔

فوکو شیما کے جوہری توانائی پلانٹ میں تابکار فضلے کا فضا اور سمندر میں اخراج شروع ہو گیا تھا، اس تنصیب کو بند کرنے کا کام اب بھی جاری ہے۔

وزیراعظم ابیے نے اس ہفتے تعمیر نو کی کوششوں کو تیز کرنے کے ایک نئے پانچ سالہ منصوبے کا وعدہ کیا ہے۔ تقریبا 230،000 افراد اس قدرتی آفت سے اب بھی بے گھر ہیں۔

XS
SM
MD
LG