رسائی کے لنکس

جاپان میں سمندری طوفان سے تباہی، 15 ہلاک


جاپان میں سمندری طوفان سے تباہی، 15 ہلاک

جاپان میں سمندری طوفان سے تباہی، 15 ہلاک

شدید نوعیت کا سمندری طوفان 'روک' جاپان کے شمالی اور وسطی علاقوں کو نشانہ بنانے کے بعد جمعرات کی شام کھلے سمندر کی جانب بڑھ گیا ہے۔

طوفان سے سب سے زیادہ متاثر شمالی جزیرہ ہکیڈو اور وسطی جاپان کے علاقے ہوئے ہیں جہاں مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب سے کم از کم 15 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوگئے ہیں۔

طوفان نے دارالحکومت ٹوکیوکو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں بدھ کو ہونے والی طوفانی بارش اور تیز ہواؤں کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوجانے سے لاکھوں مسافر دربدر ہوگئے۔

تاہم طوفان نے ملک کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں میں زیادہ تباہی نہیں مچائی جہاں کے عوام رواں برس مارچ میں آنے والے زلزلے اور سونامی سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے میں تاحال مصروف ہیں۔

11 مارچ کی قدرتی آفات سے تباہ ہونے والے 'فوکو شیما ڈائچی' نامی جوہری بجلی گھر کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ تنصیب کے متاثرہ ری ایکٹرز سے جوہری پانی کے اخراج کو روکنے کی کوششیں کامیاب رہی ہیں جس کا طوفان کے باعث خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طوفان سے جوہری بجلی گھر کے صرف سیکیورٹی کیمروں کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔

ادھر مارچ کے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر سنڈائی کے نزدیک ایک گاؤں کے رہائشیوں نے طوفان کے خطرے کے پیشِ نظر ایک بار پر بے گھر ہونے کے اندیشہ کا اظہار کیا ہے۔

گاؤں کے رہائشی ایک شخص نے صحافیوں کو بتایا کہ اس کا خیال تھا کہ پہاڑی علاقہ میں منتقل ہوجانے کے بعد وہ محفوظ ہوگیا ہے تاہم طوفان کے باعث اسے ایک بار پھر انخلاء کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔

بدھ کو مختلف نیوز ٹیلی ویژن چینلز پر نشر ہونی والی ویڈیو فوٹیجز میں امدادی کارکن وسطی شہر نگویا کے رہائشیوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کرتے دکھائے گئے۔

حکام کی جانب سے شہر کے دس لاکھ باسیوں کو علاقے سے انخلاء کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا کہ طوفان کے باعث نزدیکی دریاؤں میں طغیانی آنے سے کئی علاقوں کے زیرِ آب آنے کے اندیشہ ہے۔

یاد رہے کہ جاپان کے مغربی علاقے رواں ماہ کے آغاز پر آنے والے سمندری طوفان 'ٹالاس' سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کی جدوجہد میں تاحال مصروف ہیں جس سے 80 افراد ہلاک یالاپتہ ہوگئے تھے۔

طوفان اپنے ساتھ کئی سڑکیں بہا لے گیا تھا جبکہ اس کے باعث ٹیلی فون اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

XS
SM
MD
LG