رسائی کے لنکس

جاپان اور بھارت جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط کریں گے: رپورٹ


دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم (فائل فوٹو)

دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم (فائل فوٹو)

دونوں ملکوں کے عہدیداروں کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے کے خدوخال پر اتفاق ہو چکا ہے۔

بھارت اور جاپان کے درمیان سول جوہری تعاون کے معاہدے پر متوقع طور پر آئندہ ماہ دستخط ہوں گے۔

جاپان کے ایک موقر اخبار "میانیچی" کے مطابق اس معاہدے پر دستخط نومبر کے وسط میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ جاپان میں ہونے کی توقع ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق مودی اور ان کے جاپانی ہم منصب شنزو ایبے نے پرامن جوہری توانائی کے لیے گزشتہ دسمبر میں جوہری تعاون کے سمجھوتے پر اتفاق کیا تھا، لیکن بعض تکنیکی اور قانونی معاملات کے تناظر میں اس پر دستخط نہیں ہو سکے تھے۔

جاپان چاہتا ہے کہ بھارت کو جوہری ری ایکٹرز برآمد کرنے قبل یہ ملک جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق اسے اضافی یقینی دہانی کروائے۔

جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جو جوہری حملے کا نشانہ بنا تھا جب کہ بھارت کا جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے۔

بھارت اور جاپان کے درمیان جوہری تعاون پر بات چیت کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکہ نے بھارت کے ساتھ جوہری تجارت کے لیے راہ ہموار کی۔

دونوں ملکوں کے عہدیداروں کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے کے خدوخال پر اتفاق ہو چکا ہے، جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی جوہری تجربے کی صورت میں جاپان یہ تعاون فوری طور پر ختم کر دے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کا فائدہ امریکہ کو بھی ہو گا۔ بھارت پہلے ہی جوہری پلانٹس کے لیے جی ای۔ ہٹاچی نامی کمپنیوں کو جگہ فراہم کر چکا ہے۔ یہ امریکی اور جاپانی فرمز ہیں۔

XS
SM
MD
LG