رسائی کے لنکس

اغوا کار طالبان نہیں افغان فوجی تھے، جاپانی صحافی

  • ب

ایک جاپانی صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں اُسے اغوا کر کے پانچ ماہ تک اپنی قید میں رکھنے والے” طالبان نہیں بلکہ بدعنوان افغان فوجی“ تھے۔

چیچنیا، عراق، ایتھوپیا اور جارجیا سمیت دنیا کے دوسرے حصوں میں جنگ کی کوریج کا تجربہ رکھنے والے41 سالہ کوسوکے تسونیوکا کو نامعلوم مسلح افراد نے شمالی افغانستان کے ایک علاقے سے اپریل میں اغوا کرنے کے بعد گذشتہ ہفتے رہاکر دیا تھا۔

پیر کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ” ٹوِٹر“ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں جاپانی صحافی نے کہا ہے کہ اغواکاروں نے اپنے آپ کوطالبان ظاہر کر کے جاپانی حکومت کو بلیک میل کیااور انھیں خوف تھا کہ اس حقیقت کوراز میں رکھنے کے لیے اغوا کار انھیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اغوا کاروں نے جاپانی صحافی کو آزادکرنے کے بدلے طالبان قیدیوں کی رہائی اور افغان حکومت سے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق مغوی صحافی کی رہائی کے لیے اغوا کاروں کو کئی لاکھ ڈالر ادا کرنے پرمذاکرات بھی ہو تے رہے۔

لیکن جاپان میں ایک سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت اور مغوی صحافی کے خاندان نے اغواکاروں کو کسی قسم کا تاوان ادا نہیں کیا ہے۔

افغانستان میں جرائم پیشہ گروہوں اور طالبان جنگجوؤں نے پچھلے نو سالوں کے دوران درجنوں غیر ملکیوں کو اغوا کیا ہے جن میں زیادہ تر صحافی تھے۔

XS
SM
MD
LG