رسائی کے لنکس

جاپان: لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے میدان مار لیا


ایل ڈی پی کے سربراہ، شنزو ابے

ایل ڈی پی کے سربراہ، شنزو ابے

ایل ڈی پی جو ایک عرصے تک جاپان کی سیاست پر چھائی رہی ہے، تین سال بعد ایک بار پھر ملک کو بائیں بازو کی سیاسی راہ پر لے آئی ہے، اور اس طرح سابق وزیر اعظم شنزو ابے دوبارہ اقتدار میں آئیں گے

اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں جاپان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) نےزبردست کامیابی حاصل کرلی ہے، جس کے باعث روایت پسند اور اُن کے اتحادی نئی حکومت تشکیل دے سکیں گے، اور اِس طرح مزید جارحانہ نوعیت کی سکیورٹی ایجنڈے پر عمل درآمد ہوگا اوردلیرانہ معاشی اصلاحات لائی جائیں گی۔

ایل ڈی پی جو ایک عرصے تک جاپان کی سیاست پر چھائی رہی ہے، تین سال بعد ایک بار پھر ملک کوبائیں بازو کی سیاسی راہ پر لے آئی ہے، اور اس طرح سابق وزیر اعظم شنزو ابے دوبارہ اقتدار میں آئیں گے۔

ووٹنگ کے نتائج پر سامنے آنے والے اندازوں سے پتا چلتا ہے کہ ایل ڈی پی نے زیادہ طاقت ور 480نشستوں والے ایوانِ زیریں میں تقریباً 300نشستیں جیتی ہیں جب کہ اِس کی ایک اتحادی جماعت، نیو کمیتو نے تقریباً 30نشستیں اپنے نام کی ہیں۔ اِس طرح اُنھیں دوتہائی اکثریت حاصل ہوگئی ہے اور ایوان ِبالا پر اثر انداز ہونا ممکن ہوجائے گا، جہاں حکمراں ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان (ڈی پی جے) اب تک سب سے بڑی جماعت تھی۔

پیش گوئی کے مطابق، ڈی پی جے ایوان زیریں میں دو تہائی سے زائد سیٹیں ہارے گی۔ وزیر اعظم یوشی ہیکو نودا نے یہ کہتے ہوئے کہ اِس شکست کے وہ خود ذمہ دار ہیں ، پارٹی کی قیادت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم، بتایا جاتا ہے کہ سبک دوش ہونے والے وزیر اعظم پارلیمان میں اپنی نشست جیت جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایل ڈی پی کی جیت کا مطلب یہ ہے کہ حکومت بحر الکاہل میں چین کے ساتھ علاقائی تنازعات پر سخت مؤقف جاری رکھ سکے گی، اور جوہری توانائی کی پالیسی جسے حکومتی حمایت حاصل ہے جاری رکھے گی، حالانکہ 2011ء میں جاپان کا جوہری تباہ کاری سے سابقہ پڑ چکا ہے۔

مسٹر ابے نے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی تعمیرات کے لیے اخراجات میں اضافے کا مؤقف اپنایا جائے، اور 12برسوں میں چار مرتبہ کساد بازاری سےنبردآزما ہونے والے جاپان کے ماضی کی مایہ ناز مالیاتی پالیسی کی بحالی کی طرف گامزن ہوا جائے۔
XS
SM
MD
LG