رسائی کے لنکس

جاپان: آزاد کمیشن نے جوہری بحران کی تحقیقات شروع کر دیں


جاپان: آزاد کمیشن نے جوہری بحران کی تحقیقات شروع کر دیں

جاپان میں حالیہ جوہری بحران کی وجوہات کی تحقیقات کرنے والے ایک آزاد پینل کے سربراہ نے جوہری توانائی کے خطرات کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ریٹائرڈ پروفیسر اور انسانی غلطیوں کے علم کے معروف ماہر یوٹارو ہاٹامورا نے منگل کے روز دارالحکومت ٹوکیو میں کمیشن کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی میں بجلی کی پیداروا کے دیگر ذرائع کے مقابلے میں کثافت زیادہ ہوتی ہے، اور اسے ’’محفوظ تصور کرنا ایک غلطی‘‘ ہے۔

کمیشن کا اجلاس ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب ایک روز قبل جاپان کی نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے فوکو شیما جوہری بجلی گھر کے تین ری ایکٹرز کی خرابی کے بعد پہلے ہفتے میں پلانٹ سے خارج ہونے والی تابکاری کی شرح کے تخمینے میں نمایاں اضافہ کردیا تھا۔

تابکاری کی نئی شرح پہلے بیان کردہ شرح کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ جوہری بجلی گھر سے خارج ہونے والی تابکاری کی زیادہ تر مقدار جاپان کے آبادی والے علاقوں کے بجائے مشرق کی طرف بحرِالکاہل کی جانب اثر انداز ہوئی۔

جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کی جانب سے تشکیل کردہ ماہرین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے گزشتہ ہفتے جاپانی حکومت کو ادارے کی اس تجویز پر عمل نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جوہری توانائی کی ریگیولیٹری ایجنسی کو وزارتِ صنعت سے الگ کیا جائے۔

منگل کے روز جاپان کے نشریاتی ادارے ’’این ایچ کے‘‘ نے ایک سرکاری رپورٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے مطابق حکومت عالمی ادارے کی مذکورہ تجویز پر عملدرآمد کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ نشریاتی ادارے کے مطابق مذکورہ رپورٹ رواں ماہ کے اختتام پر جنیوا میں ہونے والے ’آئی اے ای اے‘ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

جاپانی وزیر اعطم ناؤتو کان نے بھی پروفیسر ہاٹامورا کی سربراہی میں قائم کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومت کے دباؤ کے بغیر جوہری بحران کے حوالے سے اپنے ’’ٹھوس فیصلے‘‘ پیش کرے۔

امکان ہے کہ کمیشن اپنی ابتدائی رپورٹ رواں برس کے اختتام سے قبل پیش کردے گا جبکہ اس کی حتمی رپورٹ 2012ء کے وسط تک متوقع ہے۔

فوکو شیما کے جوہری بجلی گھر سیتابکاری کا اخراج 11 مارچ کو آنے والے زلزلے اور سونامی سے جاری ہے جس میں تنصیب کا کولنگ سسٹم ناکارہ ہو گیا تھا اور تین ری ایکٹرز میں شدید ہدت کے باعث جوہری ایندھن کے حفاظتی خولوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

XS
SM
MD
LG