رسائی کے لنکس

جاپانی جوہر ی بجلی گھرکے حادثے پر ترقی یافتہ ممالک کی پریشانی

  • کیرولین پریسوٹی
  • آمنہ خان

جاپانی جوہر ی بجلی گھرکے حادثے پر ترقی یافتہ ممالک کی پریشانی

جاپانی جوہر ی بجلی گھرکے حادثے پر ترقی یافتہ ممالک کی پریشانی

جاپان کے شہر فوکوشیما میں واقع جوہری بجلی گھر کے ایک پلانٹ میں اب صرف 50 لوگ موجود ہیں جو اس پلانٹ کو چلا رہے ہیں۔لیکن جوہری ایندھن کو ٹھنڈا رکھنے کی کوششوں کے دوران کچھ موقعوں پر ان لوگوں کو بھی نکلنا پڑا ۔

اس صورت حال کے پیش نظر دنیا بھر میں جوہری توانائی کی پیداوار سے منسلک خطروں کا ایک نئے سرے سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جرمنی نے اپنے سات پرانے جوہری ری ایکٹر بند کر دیے ہیں ۔ ان سے توانائی کی پیداوار جاری رکھنے کا فیصلہ تین ماہ بعد کیا جائے گا۔

جرمنی کی چانسلر آنگلا مارکل کا کہناہے کہ ان حالات کی روشنی میں ہم اپنے تمام نیوکلئیر پلانٹس کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

یورپی یونین تجربات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کے علاقوں میں واقع 143 جوہری پلانٹس زلزلے کے جھٹکوں کو کس حد تک برداشت کر سکیں گے۔عالمی جوہری توانائی کی تنظیم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کو توقع ہے کہ جاپان میں خارج ہونے والی جوہری تابکاری ہوا کے رخ کے ساتھ سمندر کی طرف چلی جائے گی۔ لیکن اس کے باوجود چین میں جوہری تابکاری کی نشاندہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تائیوان میں واقع تین نیوکلیئر پلانٹس کے قریب ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے اقدامات کی مشق کی جائے گی۔ تائیوان کے صدر ما ینگ لیوکا کہنا ہے کہ کسی خطرے کی صورت میں تائیوان اپنی عوام کی حفاظت کے لیے اپنے جوہری ری ایکٹرزکی قربانی دینے کو تیار ہو گا۔

گو امریکہ میں جوہری توانائی کی پیداوار کے کچھ پلانٹ جاپان کے پلانٹس کے طرز پر بنے ہوئے ہیں، لیکن توانائی کے امور کے لیے امریکہ کے وزیر اسٹیون چونے امریکیوں کی یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکہ میں واقع جوہری پلانٹ محفوظ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم یہ دیکھیں گے کہ جاپان میں اتنے بڑے زلزلے اور سونامی کی وجہ سے حالات کس طرح بگڑے۔ پھر ان معلومات کی روشنی میں ہم اپنے ری ایکٹرز پر دوبارہ نظر ڈالیں گے تاکہ ہم اپنے حفاظتی اقدامات کو بہتر کر سکیں۔

رابرٹ ایلواریز کا تعلق انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیزنامی ایک تھنک ٹینک سے ہے۔ ان کے مطابق اس حادثے کی وجہ سے جوہری توانائی کی انڈسٹری کو نقصان ہو گا۔

وہ کہتے ہیں کہ مجموعی طور پراس شعبے میں پیش رفت تھم گئی ہے۔ اور اگرچہ لوگ جوہری توانائی کی حمایت میں بیانات دے رہے ہیں اور یقین دہانیاں کر رہے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں آپ کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ان لوگوں کو عالمی سطح پر جوہری توانائی کے مناسب استعمال یا موجودہ جوہری ایندھن کی سلامتی کا خیال نہیں آیا ہو گا۔

بعض ماہرین اس لیے بھی پریشان ہیں کیونکہ جوہری توانائی کی پیداوار کےلیے بعض ری ایکٹرز ان علاقوں میں واقع ہیں جہاں زلزلے بہت عام ہیں۔

XS
SM
MD
LG