رسائی کے لنکس

جاپان: نئے انتخابات میں سابق وزیراعظم کی کامیابی کا امکان

  • اسٹیو ہرمن

شنزو ابی

شنزو ابی

بعض سیاسی تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، سابق وزیرِ اعظم شنزو ابی کی قیادت میں ایوانِ زیریں کی 480 نشستوں میں سے 300 سے زیادہ نشستیں جیت لے گی۔

اتوار کے روز جاپان کی پارلیمینٹ کے ایوانِ زیریں کے انتخاب ہونے والے ہیں۔ اس انتخاب میں وزیرِ اعظم یوشی ہیکو نوڈا کا سیاسی مستقبل اور شاید ان کی اپنی پارٹی کا وجود داؤ پر لگا ہوا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جاپان میں گذشتہ کئی برسوں میں ہونے والے انتخابات میں اہم ترین ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیرِ اعظم یوشی ہیکو نوڈا کی مقبولیت کم ہو کر صرف 20 فیصد رہ گئی ہے اور عام خیال یہ ہے کہ 16 دسمبر کے پارلیمانی انتخاب میں ان کی ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان یعنی ڈی پی جے کو بری طرح شکست ہو گی۔ 2009 میں ڈی پی جے کی فتح سے پہلے ، قدامت پسند رجحان والی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی 1955 میں اپنی تشکیل کے بعد سے مسلسل بر سرِ اقتدار رہی ہے۔

بعض سیاسی تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، سابق وزیرِ اعظم شنزو ابی کی قیادت میں ایوانِ زیریں کی 480 نشستوں میں سے 300 سے زیادہ نشستیں جیت لے گی۔ مسٹر ابی 2007ء میں آخری بار وزیرِ اعظم بنے تھے۔ اس کے بعد سے اب تک، جاپان میں حکومت کے پانچ سربراہ آ چکے ہیں۔

سیاسی ماہرین جیسے ٹوکیو میں یورایشیا گروپ کے جُن اوکومورا کا خیال ہے کہ مسٹر ابی کو دوبارہ وزیرِ اعظم بننے کا چانس ملنے والا ہے ۔ وہ کہتے ہیں’’ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس انتخاب میں کون جیتے گا ۔ میں بات کر رہا ہوں شنزو ابی کی قیادت میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی ۔ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ آخری انتخاب کے بعد ، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی مجموعی طور پر دائیں طرف جھک گئی ہے ۔‘‘

لبرل ڈیموکریٹک پارٹی مزید دائیں طرف چلی گئی جب شہری علاقوں میں اس کے زیادہ اعتدال پسند امیدواروں کو پچھلے انتخابات میں شکست ہو ئی ، اور پارٹی کے اندر قدامت پسندوں کو بتدریج زیادہ قوت حاصل ہو گئی۔

لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے موجودہ انتخابی پلیٹ فارم میں اس تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے جس میں سیلف ڈیفنس فورسز کے سائز اور ان کی طاقت میں اضافے کی حمایت کی گئی ہے۔

مسٹر ابی موجودہ آئین کی شق نمبر نو پر نظرِ ثانی کے حق میں ہیں ۔ اس شق کے تحت جاپان کو دوبارہ مسلح کرنے یا اجتماعی دفاع میں شرکت کی اجازت نہیں ہے ۔

بعض دوسرے قوم پرست عناصر کہہ رہےہیں کہ جاپان ان جزیروں پر اپنے کنٹرول کو زیادہ مؤثر بنائے جن پر چین کا بھی دعویٰ ہے اور بعض تاریخی تنازعات پر نظرِ ثانی کرے ۔ ان میں ان عورتوں کا معاملہ بھی ہے جنہیں ’کمفرٹ ویمن‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ عورتیں ہیں جنہیں بحرالکاہل کی جنگ کے دوران جاپان کی شاہی فوجیں کوریا کی نو آبادی سے لے گئی تھیں اور انہیں طوائفوں کے طور پر استعمال کیا تھا۔

سابق جاپانی سفیر اور کیوٹو سانگیو یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ورلڈ افیئرز کے سربراہ کازوہیکو ٹوگو کہتے ہیں کہ اگر ایسا کیا گیا تو علاقے کے ملکوں کے درمیان کشیدگیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔

’’اگر جاپان نے ایسا کیا، خاص طور سے کمفرٹ ویمن کے حوالے سے، تو نہ صرف یہ کہ جنوبی کوریا کے ساتھ ہمارے تعلقات مکمل طور سے خراب ہو جائیں گے، بلکہ ا س سے ہمارے ملکوں کے درمیان اتحاد کو بھی سخت دھچکہ لگے گا۔‘‘

جاپان اور جنوبی کوریا دونوں کے ساتھ امریکہ کے فوجی اتحاد قائم ہیں۔ ان ملکوں کے دفاع کے لیے ہزاروں امریکی فوجی ان ملکوں میں تعینات ہیں ۔

ٹوکیو میں یوریشیا گروپ کے جُن اوکومورا کی پیشگوئی ہے کہ انتخاب کے نتیجے سے قطع نظر، دونوں بڑی پارٹیوں میں سے کسی کو بھی اتنے ووٹ نہیں ملیں گے کہ اگلی حکومت پالیسی میں کوئی انقلابی تبدیلیاں لا سکے۔

’’دونوں میں سے کوئی بھی پارٹی ایک تہائی سے زیادہ عوامی ووٹ حاصل نہیں کر سکے گی ۔ یہ کوئی اتنی بڑی تعداد نہیں ہے جس کے زور پر ہم اس قسم کی اصلاحات کر سکیں جو ہمارے لیے ضروری ہیں۔‘‘

لہٰذا ، اگر لبرل ڈیموکریٹک پارٹی دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکی، تو پھر ایک تیسری پارٹی کو اتنا اثر و رسوخ حاصل ہو جائے گا جو اس کے سائز کے لحاظ سے کہیں زیادہ ہو گا۔

اور اس تیسری طاقت میں نمایاں مقام ٹوکیو کے سابق گورنر شنتارو اشیہارا کو حاصل ہے ۔ ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ غیر ملکیوں کے خوف میں مبتلا ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اشیہارا ایک طویل عرصے سے بیرونی ملکوں اور غیرملکیوں، خاص طور سے چینیوں پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ اشیہارا کو امید ہے کہ انھوں نے حال ہی میں جو جاپان ریسٹوریشن پارٹی بنائی ہے، اس کو اتنی نشستیں مل جائیں گی کہ طاقت کا توازن ان کے ہاتھ میں آجائے، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ ان سے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کہا جائے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شمالی کوریا نے بدھ کے روز سیٹلائٹ لانچ کرنے کی جو اشتعال انگیز کارروائی کی ہے، اس سے قوم پرست امیدواروں کی حمایت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مسٹر ابی جو ایک سابق وزیرِ اعظم کے پوتے ہیں، کہتے ہیں کہ ان میں وزیرِ اعظم کے عہدے کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا حوصلہ موجود ہے۔ انہیں معیشت کو ٹھیک کرنے کے مشکل چیلنج سے بھی نمٹنا ہوگا جو ایک عرصے سے انحطاط کا شکار ہے۔

بہت سے اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ جاپان کی معیشت ایک بار پھر کساد بازاری کی لپیٹ میں ہے ۔ جاپان کی آبادی میں بوڑھے لوگوں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس کی مجموعی قومی پیداوار تیسرے نمبر پر آ گئی اور چین کو اس پر سبقت حاصل ہو گئی۔ جاپان کے قرض اور مجموعی قومی پیداوار کا تناسب 200 فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے ۔
XS
SM
MD
LG