رسائی کے لنکس

جاپان اور روس سربراہ اجلاس، 68 معاہدوں پر دستخط


جاپان کے ایک تفریحی مقام ناگاتو میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن اور جاپان کے وزیر اعظم شینزو ایبے مصافحہ کررہے ہیں۔ 15 دسمبر 2016

روس کے صدر پوٹن نے کہا کہ ان کی حکومت جاپانیوں کو کورائل جزائر کا دورہ کرنے کی اجازت دینے کے لیے قواعد میں نرمی کر سکتی ہے۔

جاپان کے وزیر أعظم شیزو ابیے اور روس کے صدر والادی میر پوٹن کے درمیان دو روزہ مذاکرات اہم مسائل پر کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔ دوسری جنگ عظیم کے زمانے سے علاقائی تنازع ایک ایسا معاملہ ہے جس پر دونوں ملکوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

دونوں راہنماؤں کے درمیان جاپان کے جنوب مغرب میں واقع موسم بہار کے تفریح مقام پر مذاکرات کے بعد جمعے کے روز ٹوکیو میں ملاقات ہوئی۔

جاپان کے دارالحکومت میں پولیس نے قوم پرست مظاہرین کو سربراہ اجلاس کے مقام سے دور رکھا۔ مظاہرین یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ مغربی بحرالکاہل میں واقع ان جنوبی جزائر کو جاپان کے حوالے کیا جائے جن پر اس نے دوسرے عالمی جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا جس کے نتیجے میں 17 ہزار جاپانیوں کو وہاں سے بھاگنا پڑا تھا۔

دونوں ملک جزیروں پر ملکیت کے سلسلے میں ابھی تک کسی بھی سمجھوتے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

ٹوکیو میں دونوں راہنماؤں نے امن معاہدے کے امکانات پر گفتگو کی اور اس چیز پر اتفاق کیا کہ اقتصادی تعاون بڑھانے سے ایسے حالات پیدا کرنے میں مدد ملے گی جن سے مستقبل میں جزیروں کے اس سلسلے پر کوئی معاہدہ طے پاسکے گا۔

سربراہ اجلاس کے بعد دونوں راہنماؤں نے میڈیا سے بات کی۔ جاپانی وزیراعظم ایبے نے کہا کہ اعتماد کے بغیر کسی منزل تک نہیں پہنچا جا سکتا۔

روس کے صدر پوٹن نے کہا کہ ان کی حکومت جاپانیوں کو کورائل جزائر کا دورہ کرنے کی اجازت دینے کے لیے قواعد میں نرمی کر سکتی ہے۔

جمعے کے روز مذاکرات کے اختتام پر دونوں ملکوں کے درمیان 68 معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں سے اکثر کا تعلق توانائی کو ترقی دینے کے منصوبو ں سے تھا۔

XS
SM
MD
LG