رسائی کے لنکس

جاپان اور امریکہ کی مشترکہ بحری مشقیں


یو ایس ایس کارل ونسن (فائل فوٹو)

جزیرہ نما کوریا کی طرف سفر کرنے والے طیارہ بردار امریکی بحری جہاز کے ساتھ جاپان کے دو جنگی بحری جہاز بھی اب شامل ہو گئے ہیں۔

سمدیر اور آشی گارا نامی جاپانی جنگی جہاز امریکی بحری جہاز کارل ونسن کے ساتھ ملنے کے لئے جمعہ کو مغربی جاپان سے روانہ ہوئے۔ دونوں ملکوں کے جنگی بحری جہازوں نے اتوار کو مغربی بحرالکاہل میں جنگی مشقیں شروع کیں۔

'دی کارل ونسن اسٹرائیک گروپ' جس میں یوایس ایس کارل ونسن نامی جہاز بردار سمیت تین میزائل شکن بحری جہاز بھی شامل ہیں۔

جزیر نما کوریا میں شمالی کوریا کی طرف سے میزائل تجربہ کرنے کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہونے پر جو صدر ٹرمپ کے حکم پر آسٹریلیا کی طرف جانے والے اس بیڑے کا رخ جزیرہ نما کوریا کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہے کہ جاپانی بحری جنگی جہاز کتنے عرصے تک امریکی بحری بیڑے کے ساتھ حرکت کرتے رہے ہیں۔

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ معمول کی مشترکہ مشقیں ہیں جن کا مقصد بحری دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا اور مشترکہ حکمت عملی کو بہتر کرنا ہے۔

جاپان کی طرف سے بحری طاقت کا مظاہرہ اس بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ شمالی کوریا جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں سے جاپان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔

دوسری طرف اتوار کو شمالی کوریا نے کہا کہ وہ اپنی فوجی طاقت کے مظاہرے کرنے کے لیے امریکہ کے طیارہ بردار جہاز کو ڈبو سکتا ہے۔

شمالی کوریا کی حکمران جماعت ورکرز پارٹی کے اخبار روڈونگ سنمن نے ایک تبصرے میں کہا کہ "ہماری انقلابی فورسز امریکہ کے جوہری طاقت سے چلنے والے بیڑے کو ایک ہی حملے سے ڈبونے کے لیے تیار ہیں۔"

شمالی کوریا کورین پیپلز آرمی کا 85 ویں یوم تاسیس منگل کو منائے گا۔ ماضی میں ایسے دن کے موقع پر یہ ملک اپنے ہتھیاروں کے تجربات کر چکا ہے۔

شمالی کوریا نے اس کے خلاف عائد اقوام متحدہ کی تعزیرات کے باوجود جوہری اور میزائل تجربات کیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نےشمالی کوریا کی طرف سے امریکہ کے خلاف جوہری میزائل کے حملے کی صلاحیت کو روکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لیے فوجی حملے سمیت تمام طریقے موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG