رسائی کے لنکس

جاپانی خلائی راکٹ اکاتسوکی زہرہ کے قریب پہنچ گیا


جاپانی خلائی راکٹ اکاتسوکی زہرہ کے قریب پہنچ گیا

جاپانی خلائی راکٹ اکاتسوکی زہرہ کے قریب پہنچ گیا

جاپان کے خلائی ادارے جاکسا نے کہاہے کہ وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا اس کا بھیجا ہواخلائی راکٹ کامیابی کے ساتھ زہرہ کے مدار میں داخل ہوگیا ہے یا نہیں۔

جاکسا کا کہنا ہے کہ جاپانی خلائی راکٹ نے، جس کا نام اکاتسوکی (صبح )ہے ، زہرہ کے قریب پہنچنے پر رفتار کم کرنے کے لیے منگل کے روز الٹی سمت میں اپنے انجن چلائے تھے، مگر بعدازاں اس وقت زمینی مرکزسے اس کا رابطہ ٹوٹ گیا جب وہ گردش کرتے ہوئے زہرہ کے پیچھے چلا گیاتھا۔

خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ بعد میں راکٹ کے ایک انٹینا سے زمینی مرکز کا رابطہ قائم ہوگیا۔

راکٹ کے دوسرے انٹیناؤں کے ساتھ رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے زمینی مرکز کے پاس اس سے ڈیٹا موصول کرنے کی صلاحیت محدود ہوگئی ہے۔ جاپانی خلائی ادارے جاکسا کا کہنا ہے کہ وہ یہ کوشش کررہے ہیں کہ خلائی راکٹ اپنے پروگرام کے مطابق دو سال تک زہرہ کے مدار میں رہے تاکہ وہ سیارے کے موسم کے بارے میں تحقیقات کرسکیں۔

جاپانی خلائی راکٹ اکاتسوکی ، ان کے خلائی تحقیقاتی مرکز جاکسا کی جانب سےخلائی مہم پر بھیجا جانے والا پہلا ایسا راکٹ ہے جو زمین سے باہر کسی دوسرے سیارے کے مدار میں گردش کرے گا۔ اس راکٹ کی تیاری پر 30 کروڑ ڈالر لاگت آئی تھی اور یہ مئی میں اپنے سفر پر روانہ ہواتھا۔

زمین اور زہرہ اپنے جحم اور عمر کے لحاظ سے ایک جیسے سیارے ہیں۔ جب کہ زمین زہرہ کی نسبت سورج سے چار کروڑ میل زیادہ دور ہے۔

خلائی راکٹ اکاتسوکی میں ایسے سائنسی آلات نصب ہیں کہ وہ زہرہ سیارے کے گہرے بادلوں کے اندر چھپی ہوئی زمین کی سطح کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ سائنس دان زہرہ کے آتش فشانوں کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔

جاپان نے حال ہی میں اپنا ایک خلائی مشن کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے جس میں اس کے ایک راکٹ نے ایک شہابیے سے مٹی کے نمونے اکھٹے کیے اور انہیں زمین تک لے آیا۔

XS
SM
MD
LG