رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش میں پانی صاف کرنے والی سائیکل متعارف


بنگلہ دیش میں پانی صاف کرنے والی سائیکل متعارف

بنگلہ دیش میں پانی صاف کرنے والی سائیکل متعارف

اس سائیکل کے ٹائر اس انداز میں بنائے گئے ہیں کہ ان میں سے ہوا نکلنے کا امکان نہیں جبکہ پمپ اور دیگر سامان سائیکل کے پچھلے حصے میں رکھے ایک بکس میں ہوتا ہے اور فلٹر لگانے کا نظام پچھلے پہیے کے ساتھ نصب کیا گیا ہے۔

جاپان کی ایک کمپنی بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر ایک ایسی سائیکل کی پیداوار شروع کرنے کی تیاری کررہی جسے آفت زدہ علاقوں یا دور دراز دیہاتوں میں پانی صاف کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سائیکلوکلین نامی اس سائیکل میں نصب پانی صاف کرنے کا نظام ایک منٹ میں پانچ لیٹر پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بناتا ہے۔ عام طور پر دستیاب فلٹر پلانٹ میں نصب موٹر بجلی یا پھر پیڑول سے چلتی ہے لیکن سائیکلوکلین میں لگا نظام سائیکل کا پہیہ گھومانے سے اس میں لگے فلٹر پلانٹ کو چلاتا ہے۔

بنگلہ دیش میں پانی صاف کرنے والی سائیکل متعارف

بنگلہ دیش میں پانی صاف کرنے والی سائیکل متعارف

یہ سائیکل بنانے والی نپون بیسک کمپنی کے صدر یوچی کاتسورا کے بقول ”اگر آپ سائیکل کو چلا کر کسی دریا، تالاب یا پانی کے دوسرے ذرائع تک پہنچ سکتے ہیں تو اس پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لیے بس آپ کی ٹانگوں کی طاقت درکار ہو گی۔“

اس سائیکل کے ٹائر اس انداز میں بنائے گئے ہیں کہ ان میں سے ہوا نکلنے کا امکان نہیں جبکہ پمپ اور دیگر سامان سائیکل کے پچھلے حصے میں رکھے ایک بکس میں ہوتا ہے اور فلٹر لگانے کا نظام پچھلے پہیے کے ساتھ نصب کیا گیا ہے۔

ٹوکیو کے قریب کاواسکی میں موجود اس کمپنی نے 2005ء میں یہ سائیکلوکلین متعارف کرائی تھی اور اب تک دو سو ایسی سائیکلیں جاپان کے اندر فروخت کرچکی ہے۔ ایک سائیکلوکلین کی قیمت چھ ہزار چھ سو ڈالر ہے۔ زیادہ تر یہ سائیکلیں ملک کے اندر مقامی حکومتوں نے خریدیں لیکن ایک چھوٹی تعداد بنگلہ دیش، کمبوڈیا، چین، انڈونیشیا ، برما اور فلپائن کو بھی بیچی گئی ہے۔

بنگلہ دیش میں اس سائیکل کی طلب کے پیش نظر اس جاپانی کمپنی نے سائیکل بنانے والی ایک مقامی کمپنی کے ساتھ مل کر گذشتہ سال اسے مقامی طور پر کم قمیت پر بنانے کا کام شروع کیا تھااور توقع ہے کہ اپریل میں اس کی باقاعدہ پیداوار شروع کردی جائے گی۔

جاپانی کمپنی کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں ابتدائی طور پر سال میں سو سے دوسو سائیکلوکلین بنائی جاسکیں گی اور یہ ملک میں لاکھوں سائیکل رکشا چلانے والوں کے لیے روزگار کا ذریعے بھی بنیں گی۔

XS
SM
MD
LG