رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: جاپانی شہری قتل، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی


فائل

فائل

ایک ٹوئٹر پیغام میں، داعش کے گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ بات ’سائٹ انٹیلی جنس گروپ‘ نے بتائی ہے، جو آن لائن جہادی تشہیر پر نگاہ رکھتا ہے۔ آزادانہ طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں ہوپائی

دولت اسلامیہ کے دہشت گرد گروپ نے ہفتے کو شمالی بنگلہ دیش میں جاپانی شہری کو گولی مار کر ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جس سے کچھ ہی روز قبل اِسی شدت پسند گروپ نے کہا تھا کہ ڈھاکہ میں اطالوی امدادی کارکن کے قتل کی کارروائی اُسی کی کارستانی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نقاب پوش حملہ آور موٹر گاڑیوں پر سوار تھے، جُنھوں نے رنگپور ضلع میں کونیو ہوشی ماہی کو گنج گاؤں میں گولی مار کر ہلاک کیا۔


حکام نے بتایا ہے کہ ہوشی رنگپور ضلع میں کاشتکاری کے ایک منصوبے سے وابستہ تھے، جو دارالحکومت ڈھاکہ سے تقریباً 300 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں، داعش کے گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ بات ’سائٹ انٹیلی جنس گروپ‘ نے بتائی ہے، جو آن لائن جہادی تشہیر پر نگاہ رکھتا ہے۔ آزادانہ طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں ہوپائی۔

اس سے قبل موصولہ رپورٹ میں بنگلہ دیش کی پولیس کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ہفتے کو ایک جاپانی شہری کو ملک کے شمالی حصے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ اس ہفتے بنگلہ دیش میں کسی غیر ملکی کی ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے۔

اسی ہفتے ڈھاکہ میں ایک اطالوی امدادی کارکن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جس کی ذمہ داری مبینہ طور پر داعش نے قبول کی تھی۔

تاہم حکومت نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا داعش کے اس میں ملوث ہونے کے کوئی شواہد موجود نہیں۔

اس حملے کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو بنگلہ دیش کے سفر میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا تھا۔

مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش آئینی لحاظ سے سیکولر ہے۔ مگر ملک میں مذہبی شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران کم از کم 10 سیکولر بلاگر اور سرگرم کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG