رسائی کے لنکس

گیت کار جاوید اختر بھارت کی پارلیمنٹ کے رکن مقرر

  • رشید الدین

بالی وڈ کے کامیاب گیت کار اور مکالمہ نگار جاوید اختر اب بھارت کی پارلیمنٹ کے رکن کہلائے جائیں گے۔ ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں وفاقی حکومت نے انہیں پارلیمنٹ کی رکنیت عطا کی ہے۔

راجیہ سبھا کو ایوان بالا بھی کہا جاتا ہے جو عرف عام میں ایلڈرز ہاؤس ہے۔ راجیہ سبھا کے ارکان صوبائی اسمبلیوں سے چن کر آتے ہیں اور ان میں ایک مخصوص تعداد کو صدر جمہوریہ نامزد کرتے ہیں۔ صدر جمہوریہ پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل نے جاوید اختر کے ساتھ کنڑ تھیٹر کی مشہور شخصیت ڈائریکٹر اور ڈانسر جے شری کو بھی راجیہ سبھا کا رکن نامزد کیا ہے۔ اس سے پہلے دلیپ کمار، ہیما مالنی،ایم ایف حسین، شبانہ اعظمی اور دوسری کئی فلمی شخصیتیں اس منصب پر فائز رہ چکی ہیں۔

جاوید اختر کئی سرکاری اور فلمی اعزازات حاصل کر چکے ہیں، البتہ پارلیمنٹ میں سیاست دانوں کے درمیان کام کرنا ان کا پہلا تجربہ ہو گا۔
جاوید اختر نے17 جنوری 1945ء کو گوالیار کے علمی اور ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد مشہور شاعر جاں نثار اختر اور ماں صفیہ اختر تھیں۔

جاوید اختر کا سلسلہٴ نسب مشہور عالم اور دانش ور مولانا فضل حق خیر آبادی سے ملتا ہے۔ جاوید اختر کی پیدائش کے بعد ان کا خاندان لکھنو اور پھر علی گڑھ منتقل ہو گیا۔ بچپن میں ماں کا سایہ سر سے اٹھ گیا جس کے بعد ان کی پرورش رشتے داروں کے پاس ہوئی۔

ان کے والد جاں نثار اختر کا ممبئی میں زیادہ قیام ہوتا تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے میٹرک پاس کیا اور بھوپال کے سیفیہ کالج سے گریجویشن کی۔ 1964ء میں انہوں نے ممبئی کا رخ کیا اور ابتدا میں صرف سو روپے میں فلموں کے لیے مکالمے لکھنے کا کام کیا۔

اسی دوران ان کی شادی ہنی ایرانی سے ہوئی جو خود بھی سکرپٹ رائٹر تھیں۔ ان سے دو بچے فرحان اختر اور زویا اختر ہیں۔ ہنی سے طلاق کے بعد جاوید اختر نے نامور شاعر کیفی اعظمی کی صاحب زادی اور اداکارہ شبانہ اعظمی سے شادی کی۔

جاوید اخترسلمان خاں کے والد سلیم خاں کے ساتھ مل کر فلموں کے مکالمے لکھتے رہے اور یہ جوڑی سلیم جاوید کے نام سے مشہور ہوئی۔80 کے عشرے میں اس جوڑی نے کئی کامیاب فلمیں بالی وڈ کو دیں، جن کامیاب ترین فلم ’شعلے‘ بھی شامل ہے۔

جاوید اختر نے اپنے فلمی ہدایت کار فرزند فرحان اختر کے ساتھ ’دل چاہتا ہے‘، ’لکش‘ اور’راک آن‘ فلموں کے لیے کم کیا ہے۔

فلموں کے علاوہ جاوید اختر کے کلام کو جگجیت سنگھ اور نصرت فتح علی خاں نے بھی گایا ہے۔

بھارتی حکومت نے 1999ء میں جاوید اختر کو پدم شری اور 2007ء میں پدم بھوشن کے اعلیٰ سویلین اعزازات سے نوازا۔ جاوید اختر کو 14 مرتبہ فلم فیئر اور پانچ قومی ایوارڈز حاصل ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG