رسائی کے لنکس

جاوید خانانی اور ان کے شراکت دارمناف کالیا کو ایف آئی اے نے ملک کے سب سے بڑے مالی بدعنوانی کیس میں نومبر 2008 میں گرفتار کیا تھا۔دو سال قبل انہیں 14 کروڑ روپے کی رقم غیر قانونی منتقلی پر دوبارہ گرفتار کیا گیا۔

سعود ظفر

کراچی میں اتوار کی شام منی ایکسچینج کمپنی خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل کے ڈائریکٹرمحمد علی سوسائٹی کے علاقے میں ایک کثیر المنزلہ عمارت کی آٹھویں منزل سے گر کر ہلاک ہو گئے۔ پولیس واقعے کو خودکشی قرار دے رہی ہے۔ پولیس کے مطابق جس عمارت سے انہوں نے مبینہ طو ر پر چھلانگ لگائی وہ انہی کی ملکیت تھی۔ حادثے کے بعد انہیں قریبی لیاقت نیشنل اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

جاوید خانانی اور ان کے شراکت دارمناف کالیا کو ایف آئی اے نے ملک کے سب سے بڑے مالی بدعنوانی کیس میں نومبر 2008 میں گرفتار کیا تھا۔ جاوید خانانی اور مناف کالیا کے نام ان گیارہ افراد کی فہرست میں شامل تھے جنہوں نے غیر قانونی طور پر تقریباً 38 ارب ڈالر دیگر ممالک منتقل کیے تھے۔ ان گیارہ میں سے 9 کا تعلق کراچی سے جب کہ دو افراد لاہور کے رہائشی تھے۔

دو سال قبل ایف آئی اے نے خانانی اینڈ کالیاانٹرنیشنل کے ڈائریکٹر جاوید خانانی کو 14 کروڑ روپے کی رقم غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک منتقل کرنے کے کیس میں دوبارہ گرفتار کیا۔

ان کے خلاف قائم تمام مقدموں کے ختم ہوجانے کے بعد ایف آئی اے نے جاوید خانانی کو ایک مرتبہ پھر مئی 2015 میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں وہ ضمانت پر رہا ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ ایک ماہ قبل ہی امریکہ کی ایک عدالت نے جاوید کے بھائی اور خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل الطاف خانانی پر منشیات فروشوں کی منی لانڈرنگ پر سزا سناتے ہوئے ان پر ڈھائی لاکھ ڈالر جرمانہ اور 20 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اسی سلسلے میں امریکی عدالت کی جانب سے بلیک لسٹ کیے گئے چار پاکستانیوں میں جاوید خانانی کا نام بھی شامل تھا۔

واضح رہے کہ 1983 میں قائم کی جانے والی کمپنی خانانی اینڈ کالیا انٹرنیشنل ملک کی سب سے بڑی منی ایکسچینج کمپنی تھی جس کا لائسنس غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے پراسٹیٹ بنیک نے دسمبر 2008 میں منسوخ کر دیا تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG