رسائی کے لنکس

میزائل تجربہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی نہیں: ایران


ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف (فائل فوٹو)

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف (فائل فوٹو)

ظریف کی طرف سے یہ بیان امریکی سفیر سمنتھا پاور کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے (ایران کی طرف سے ) دس اکتوبر کو درمیانے فاصلے کے میزائل تجربے کا حوالہ دیا تھا۔

ایران نے امریکہ اور فرانس کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کی طرف سے طویل فاصلے کا میزائل تجربہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ سلامتی کونسل کی قرار دادیں صرف ان میزائل تجربات پر عائد ہوتی ہیں جو جوہری ہتھیار لے جانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

ہفتے کو تہران میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ" اسلامیہ جمہوریہ ایران کا کوئی بھی میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے لیے نہیں بنایا گیا ہے۔"

"اسلامی جمہوریہ ایران نے یہ ثابت کیا ہے اور دوبارہ بھی یہ ثابت کرے گا کہ جوہری ہتھیار اس کے دفاع کے نظریے کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی کبھی اس کی کوئی جگہ ہو گی۔ اس لیے ہمارے میزائل جوہری ہتھیاروں کو لے جانے کے لیے نہیں بنائے گئے ہیں کیونکہ ہم نے کبھی بھی جوہری ہھتیاروں کو لے جانے کی منصوبہ بندی نہیں کی ہے اور نا ہی کبھی ایسا کریں گے"۔

ظریف کی طرف سے یہ بیان امریکی سفیر سمنتھا پاور کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے (ایران کی طرف سے ) دس اکتوبر کو درمیانے فاصلے کے میزائل تجربے کا حوالہ دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس میزائل میں "شروع سے ہی جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت موجود ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن سلامتی کونسل میں "مناسب کارروائی" سے اس کا جواب دے گا۔

ہفتے کو ظریف کے ساتھ موجود جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر اسٹینمیر نے کہا کہ وہ میڈیا اطلاعات کو اس فیصلے کی بنیاد نہیں بنائیں گے کہ آیا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔

سمنتھا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ (قرار دادوں کی) مبینہ خلاف ورزی جولائی میں ایران اور چھ طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے پر عمل درآمد پر اثر انداز نہیں ہو گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں ایک ہی وقت میں دونوں چیزیں کرنی ہیں۔ ہمیں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ایران کو ذمہ دار بھی ٹھہرانا ہے اور ہم نے آگے بڑھتے ہوئے یہ بات یقینی بنانی ہے کہ ایران نہ ہی ایک خطرہ بنتا ہے اور نہ ہی جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے"۔​

XS
SM
MD
LG