رسائی کے لنکس

امریکہ: جو بائیڈن کی صدر اوباما سے نجی ملاقات


یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ جو بائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی اُمیدواروں کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے صدر براک اوباما سے پیر کو دوپہر کے کھانے پر نجی حیثیت میں ملاقات کی۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب یہ قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ جو بائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی اُمیدواروں کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

اگر جو بائیڈن صدارتی اُمیدوار کی نامزدگی کی اس دوڑ میں شامل ہوجاتے ہیں تو وہ سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کے بعد وہ اوباما انتظامیہ میں شامل دوسری اہم شخصیت ہوں گی۔ ہلری کلنٹن اس وقت ڈیموکریٹس امیدواروں میں سرفہرست ہیں۔

صدر براک اوباما کی مدت صدارت 2017 کے اواخر میں ختم ہو جائے گی اور وہ ملک کے آئین کے مطابق تیسری مرتبہ اس منصب کے لیے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔

صدر اوباما نے اب تک کسی ممکنہ صدارتی امیدوار کی حمایت نہیں کی ہے اور وہ تواتر سے بائیڈن اور ہلری کلنٹن دونوں کی تعریف کرتے رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کے مطابق صدر اوباما پرائمری انتخابات میں کسی بھی ڈیموکریٹک امیدوار کے نام کی توثیق کر سکتے ہیں، لیکن بالآخر اُس اُمیدوار کی حمایت کریں گے جسے باضابطہ طور پر نامزد کیا جائے گا۔

جوش ارنسٹ نے یاد دلایا کہ صدر اوباما کہہ چکے ہیں کہ جب انھوں نے 2008 کے صدارتی انتخابات میں بائیڈن کو بطور نائب صدر نامزد کیا تھا تو وہ اُن کا بہترین سیاسی فیصلہ تھا۔

جو بائیڈن کے انتخابی دوڑ میں شامل ہونے سے ڈیموکریٹک پارٹی کے وائٹ ہاؤس میں وفاداروں اور پارٹی کے حامیوں میں تقسیم کا خدشہ ہے۔

بہت سے ڈیموکریٹس توقع کر رہے ہیں کہ ہلری کلنٹن امریکہ کی پہلی خاتون صدر منتخب ہو جائیں گی، لیکن وہ 72 سالہ نائب صدر جو بائیڈن کی خدمات کے بھی معترف ہیں جو گزشتہ ساڑھے چھ سال سے بطور نائب صدر کام کر رہے ہیں۔

جو بائیڈن 1988 اور 2008 کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے بطور صدارتی اُمیدوار کے نامزدگی کے حصول میں ناکام رہے تھے لیکن شاید وہ ایک بار پھر سنجیدگی سے اس دوڑ میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

بائیڈن نے گزشتہ دنوں ریاست میسی چوسٹس سے سینیٹر ایلزبیتھ وارن سے نجی ملاقات کے لیے اپنی ریاست ڈیلوار کا دورہ منسوخ کیا۔ سینیٹر وارن اس بار صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل نہیں لیکن وہ بہت سے مالیاتی اداروں میں خاصا اثر و رسوخ رکھتی ہیں اور ابھی تک انھوں نے کسی بھی ڈیموکریٹ امیدوار کی حمایت نہیں کی۔

XS
SM
MD
LG