رسائی کے لنکس

یہودی بستیوں میں فلسطینی مزدورں کے کام پر پابندی


فلسطینی کارکن

فلسطینی کارکن

مسئلہ فلسطین کو مشرق وسطی کے تمام مسائل کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک اسرائیلی حلقے کی جانب سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان زمین کے تبادلے پر اتفاق کی تجویز کو تنازعہ فلسطین کا حل قرار دیا گیا تھا ۔ دوسری طرف فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیلی زیر انتظام مغربی کنارے میں واقع یہودی بستیوں میں فلسطینی مزدوروں کے کام کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ اس پابندی نے ،جو اب سے چند ماہ بعد نافذ العمل ہوگی ، مغربی کنارے کے ان فلسطینی مزدوروں میں بے چینی پیدا کر دی ہے جن کے روزگار کا انحصار یہودی بستیوں میں ہونےو الے تعمیراتی کام پر ہے۔

یونس صالح مغربی کنارے میں رہنے والے ایک فلسطینی ہیں ، جو تعمیراتی کام کرتے ہیں ۔ یہ ہر صبح اپنے جیسے سینکڑوں لوگوں کے ساتھ اس اسرائیلی چیک پوائنٹ سے ایک یہودی بستی میں کام کے لئے داخل ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میں تو یہودی بستی میں اپنے بچوں کی روٹی کمانے جاتا ہوں۔

صالح ان21 ہزار فلسطینیوں میں شامل ہیں جن کے ہاتھ اور محنت یہودی بستیوں کی تعمیر میں شامل ہیں ۔ فلسطینی راہنما مغربی کنارے کی یہودی بستیوں کو ایک الگ فلسطینی ریاست کے قیام میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔ اور فلسطینی انتظامیہ نے ان بستیوں میں فلسطینی مزدوروں کے کام کرنے پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ یہودی بستی میں کام کرنا دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے جیسا ہے۔

عبدالحفیظ نوفل فلسطینی انتظامیہ کے نائب وزیر معاشیات ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اسرائیل سے علیحدگی کے عمل کا حصہ ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ نوآباد یوں اور نو آباد کاروں کے ہوتے ہوئے ایک ساتھ رہنے کا کوئی راستہ نہیں ہو سکتا۔

صالح کہتے ہیں کہ ہر روز وہ ایک آزمائش سے گزرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کیسی قسمت ہے، اسرائیلیوں نے ہماری زمین لے لی جہاں میں اب کام کرتا ہوں ۔ اگر میں عرب ملکوں میں نوکری ڈھونڈنا چاہوں تو اسرائیلی مجھے وہاں جا کر کام کرنے نہیں دیں گے ۔ میرے پاس کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔

یہ اچھے پیسے اورروزگار کا تحفظ ہے جو صالح اور ان جیسے دیگر فلسطینیوں کو یہودی بستیوں میں کام کرنے پر آمادہ کرتا ہے جس کے بدلے میں نہ صرف ان کا خاندان آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے بلکہ ان کی معذور بیٹی کا علاج بھی ہو رہا ہے جس کے علاج معالجے کی ذمہ داری فلسطینی انتطامیہ نے اٹھانے سے انکار کر دیا تھا ۔ صالح کی بیوی اہلم فلسطینی ریاست کو اسرائیلی قبضے سے آزاد دیکھنا چاہتی ہیں مگر کہتی ہیں کہ انہیں حقیقت کا سامنا بھی کرنا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ میرے میاں کے پاس بستی میں کام کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ ہمارے گھر کی روٹی ہی اس سے پکتی ہے ۔ ہمارے بچے ہیں ، ہم انہیں باعزت طریقے سے پالنا چاہتے ہیں۔

فلسطینی قائدین اپنے کارکنوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے وعدے تو کرتے ہیں لیکن اس پابندی کے لاگو ہونے کی صورت میں بے روزگار ہونے والے کارکنوں کو مناسب روزگار مہیا کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ اب تک سامنے نہیں آیا ۔ یونس صالح کہتے ہیں کہ انہیں کام پر جانے سے روکنے کے لئے فلسطینی انتظامیہ کی پابندی ہی کافی نہیں ہوگی۔

وہ کہتے ہیں کہ اپنے علاقے کی انتطامیہ کے طور پر ہم ان کا احترام کرتے ہیں ۔ وہ ایسی پابندی لگا سکتے ہیں ۔ لیکن وہ ہمیں صرف طاقت کے زور پر ہی روک سکتے ہیں۔

مغربی کنارے میں روزگار کے بہتر مواقعوں کی عدم موجودگی، اسرائیلی چیک پوسٹ پر فلسطینی کارکنوں کی لمبی قطاروں کا باعث بنتی رہے گی۔

XS
SM
MD
LG