رسائی کے لنکس

امریکہ میں یہودیت کی تعلیم کا ایک ادارہ

  • نیلوفر مغل

فائل

فائل

یہاں دی جانے والی مذہبی تعلیم اختیاری ہے۔ لیکن یہاں تعلیم پانے والے بچے اسکولوں سے فراغت کے بعد خود اپنے شوق سے یہاں پڑھنے کے لیے آتے ہیں۔

امریکہ میں مختلف مذاهب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ ان میں یہودی کمیونٹی بھی شامل ہے۔ یہودی نوجوان نسل اپنی مذہبی اقدار کی جانب کس حد تک راغب ہے اور ان کو یہودی عقائد سے روشناس کرانے کے لیے ان کے والدین اور باقی کمیونٹی کیا کوششیں کرتی ہے؟

کانگریگیشن Adat Reyim کا مطلب ہے دوستوں کی ایک کمیونٹی۔ اس synagogue یا یہودی عبادت گاہ کے منتظمین کے مطابق یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں نہ صرف جدید دور کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہودی بچوں اور نوجوانوں کو مذہبی تعلیمات دی جاتی ہیں بلکہ یہ ادارہ یہودی ثقافت، اقدار اور روایات کو برقرار رکھنے کے لیے بھی کو شاں ہے۔

Adat Reyimکا آغاز 1980ءمیں ہوا تھا۔ اس وقت یہ ایک تہہ خانے میں قائم کیا گیا تھا۔ اور اب اس ادارے کو قائم ہوئے 36 برس ہوگئے ہیں۔

یہاں اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ Kindergarten سے لے کر بارہویں گریڈ تک بچوں کو مذہبی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس وقت یہاں 110 بچے مذہبی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

یہودی مذہبی پیشوا بروس ڈٰ ی ایفٹ کے مطابق بنیادی طور پر کمیونٹی کی جانب سے ان کی ان کوششوں کا مثبت رد عمل آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے مذہبی تعلیم حاصل کریں اور اپنی ثقافت اور ورثے سے متعلق بنیادی معلومات حاصل کریں۔

یہاں دی جانے والی مذہبی تعلیم اختیاری ہے۔ لیکن یہاں تعلیم پانے والے بچے اسکولوں سے فراغت کے بعد خود اپنے شوق سے یہاں پڑھنے کے لیے آتے ہیں۔

یہودی کمیونٹی میں مذہبی تعلیم کے حصول کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے؟ اس کا اندازہ یہاں آنے والے طلبہ کی دلچسپی سے لگایا جا سکتا ہے۔

اس ادارے میں آنے والے طلبہ کی دلچسپی اور لگن کی ایک وجہ یہاں کے اساتذہ ہیں جو کوشش کرتے ہیں کہ دینی تعلیم کے ساتھ انہیں دنیاوی اور جدید تعلیمات سے بھی روشناس کرایا جائے۔ تاکہ ان کی زندگی میں توازن برقرار رہے۔

ادارے کی ڈائریکٹر 'ٹین انگیجمنٹ' پیگی ایپراتھ کا کہنا ہے کہ ہم نوجوانوں پر بے حد توجہ دیتے ہیں اور ہم نوجوانوں کو مصروف رکھنے اور مختلف سرگرمیوں میں ان کی شرکت یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ ادارہ بچوں اور خاندانوں کے لیے ایک کمیونٹی کی طرح ہے۔ان کے بقول ہمارے نصاب کا ہر حصہ یہ یقینی بناتا ہے کہ ہمارے طلبہ اس دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے کیا کام یا فیصلے کر سکتے ہیں۔

امریکہ جیسے ملک میں جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں، والدین کے لیے بچوں کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔

اسکول میں تعلیم پانے والے ایک طالبِ علم کی والدہ کا کہنا ہے کہ ہم اس معاملے میں بہت خوش نصیب رہے۔ میرے بچوں نے یہاں آنے سے متعلق کچھ نہیں کہا یا پوچھا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ان کے بچے چھوٹے تھے تو وہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی تقاریب میں شرکت کرتے تھے۔ جس سے انہیں مختلف مذاہب کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ اسی طرح انہیں اپنے مذہب کے بارے میں علم ہوا اور انہیں کو ئی سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

بہت سے synagogue کی طرح یہاں بھی داخل ہوتے ہی ایک ٹوکری میں ٹوپیاں رکھی ہیں ۔ یہاں کی ایک منتظم کا کہنا ہے کہ ہم ان ٹوپیوں کو یہاں داخل ہوتے وقت پہنتے ہیں۔ مختلف رنگوں کی یہ ٹوپیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہم ایک مقدس وقت پت مقدس جگہ موجود ہیں۔اس کے علاوہ توریت پڑھنے اور خصوصی دعاؤں کے دوران پہننے کے لیے شالیں بھی یہاں دستیاب ہیں۔

اس عمارت کی ایک دیوار پر کمیونٹی کے ان افراد کے نام درج ہیں جو انتقال کر گئے ہیں۔ اور جن کے نام کے آگے سرخ بٹن ہے اس کا مطلب ہے ان کی برسی ہے۔

اس Synagogue میں اسکول اور توریت کی تعلیم کے علاوہ بین المذاہب اور سماجی تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔

تفصیل کے لیے وڈیو پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG