رسائی کے لنکس

مالی: جہادیوں نے عالمی ثقافتی ورثہ کے لیے نامزد مقام تباہ کر دیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جہادیوں نے ایک پیغام چھوڑا جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ وہ ان سب لوگوں پر حملے کریں گے جو اسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔

جہادیوں نے مرکزی مالی میں واقع ایک مزار کو تباہ کر دیا ہے جسے اقوامِ متحدہ کا عالمی ثقافتی ورثہ قرار دینے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ آوروں نے اپنے پیچھے ایک تنبیہی پیغام چھوڑا کہ جو بھی ان کے کٹڑ اسلامی نظریات کی پیروی نہیں کرے گا وہ اس کا پیچھا کریں گے۔

شيخ امادو باری کے مزار پر بارود سے کیا گیا حملہ اس سے پہلے شمالی مالی میں کیے گئے حملوں سے مماثلت رکھتا ہے جب 2012 میں جہادیوں نے وہاں کے اہم شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔ مزار پر حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب ملک کے جنوب اور دارالحکومت کے قریب ایک نئی جہادی تنظیم کے ابھرنے پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

باری انیسویں صدی میں ایک اہم دینی رہنما تھے جنہوں نے مرکزی مالی میں مُظاہِر پَرَستوں کو اسلام کی تعلیم دی۔ بلوغو امادو باری جو ان کی اولاد میں سے ہیں، نے تصدیق کی کہ اتوار کی رات کو حمدالہٰی گاؤں میں مزار کو جزوی طور پر تباہ کر دیا گیا۔

جہادیوں نے ایک پیغام چھوڑا جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ وہ ان سب لوگوں پر حملے کریں گے جو اسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔ انہوں نے فرانس اور اقوامِ متحدہ کی امن فوج اور ان تمام لوگوں کو دھمکی دی جو ان کی مدد کر رہے ہیں۔

فرانس نے 2013 کے اوائل میں شمالی مالی میں شدت پسندوں کو حکومت سے ہٹانے کے لیے فوجی کارروائی کی تھی جبکہ اقوامِ متحدہ کا امن مشن ملک میں استحکام کے لیے کام کر رہا ہے۔

جس مزار کو اتوار کو تباہ کیا گیا وہ ایک تاریخی گاؤں میں واقع ہے جو مالی کا قومی ورثہ ہے۔ اسے 2009 میں اقوامِ متحدہ کا عالمی ورثہ قرار دینے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

2012 میں جہادیوں نے ٹمبکٹو کے بزرگوں کے 16 مزاروں کو یہ کہہ کر تباہ کر دیا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ لوگ ان کی خدا کی طرح تعظیم کریں۔

XS
SM
MD
LG