رسائی کے لنکس

’میری والدہ کو لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔ آخری وقت میں، ایسا کرنا ممکن نہیں رہا۔ مجھے معلوم ہے کہ اُن کی آخری خواہش یہی ہوگی کہ واپس آئیں اور اپنی مذاح سے شائقین کی مسکراہٹ کو یقینی بنائیں‘

مشہور مزاحیہ اداکارہ، جوئن رِورز کا جمعرات کی شام نیو یارک کے اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ اُن کی بیٹی، مِلسا نے بتایا ہے کہ اُنھیں عارضہٴقلب لاحق تھا۔ اُن کی عمر 81 برس تھی۔

اُنھوں نے بتایا کہ جوئن رورز اتوار سے طبی امداد کے لیے مین ہٹن کے ماؤنٹ سنائے اسپتال میں داخل تھیں، جہاں اُن کی سرجری کی گئی۔ اس سے قبل، وہ گذشتہ جمعرات کو ’یارک ویل انڈوسکوپی کلینک‘ میں داخل ہوئی تھیں، جہاں اُنھیں سانس لینے کا مسئلہ درپیش ہوا۔

مِلسا کے بقول، ’میری والدہ کو لوگوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔ آخری وقت میں، ایسا کرنا ممکن نہیں رہا۔ مجھے معلوم ہے کہ اُن کی آخری خواہش یہی ہوگی کہ واپس آئیں اور اپنی مذاح سے شائقین کی مسکراہٹ کو یقینی بنائیں‘۔

وہ انتہائی منہ پھٹ خیال کی جاتی تھیں۔

جوئن رِورز سے قبل، مزاحیہ اداکاری صرف و صرف مردوں کا شعبہ سمجھا جاتا تھا۔ جب وہ اِس میدان میں آئیں، تو ڈون رکلز اور لینی بروس اپنے عروج پر تھے۔

وہ روزینے بار اور سارا سلورمن جیسی مزاحیہ اداکاروں کی استاد تھیں۔

XS
SM
MD
LG