رسائی کے لنکس

لڑکیوں کے بارے میں کلمات، نوبل انعام یافتہ کو مہنگے پڑگئے


پچھلے ہفتے سائنس داں، سر ٹم ہنٹ نے ایک کانفرنس میں خواتین محققین کےبارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'سائنسی تجربہ گاہوں میں خواتین کے ساتھ کام کرنا مشکل ہوتا ہے'

پچھلے ہفتے سائنس کی تاریخ میں ایک حیران کن بات سنی گئی، جب ایک نوبیل انعام یافتہ سائنس دان ٹم ہنٹ نے کہا کہ خواتین کے لیے الگ تھلگ سائنسی تجربہ گاہیں ہونی چاہئیں، کیونکہ ان کی موجودگی میں کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔

انھوں نےاس موقع پر واحد جنس کی تجربہ گاہوں کےحق میں دلیل بھی دی، ان کا یہ متنازعہ بیان سماجی روابطے کی ویب سائٹ کےصارفین کےغصےکی وجہ بن گیا ہے، جس کے بعد سائنس دان نےدونوں تنظیموں کےعہدوں سے استعفی دے دیا تھا۔

دریں اثنا، لندن کےمیئر بورس جانسن نے آج ان کے متنازعہ بیان کا دفاع کرتے ہوئے پروفیسر ٹم ہنٹ کی بحالی پر اصرار کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سرٹم ہنٹ کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے، اور صنفی اختلافات کی طرف اشارہ کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے۔

ان کا یہ بیان اس تناظر میں ہےجب پچھلے ہفتے سائنس دان سرٹم ہنٹ نے ایک کانفرنس میں خواتین محققین کےبارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'سائنسی تجربہ گاہوں میں خواتین کے ساتھ کام کرنا مشکل ہوتا ہے'۔

پروفیسر ٹم ہنٹ نے 9 جون کو جنوبی کوریا میں سائنس جرنلسٹ کی عالمی کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ تجربہ گاہوں میں خواتین محققین کے ساتھ کام کرنا مسئلہ ہے، کیونکہ ان کی موجودگی میں تین باتوں کے ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ آپ ان کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں یا وہ آپ سے محبت کرنے لگتی ہیں، اور جب آپ ان پر تنقید کرتے ہیں تو وہ رونا شروع کر دیتی ہیں۔

تاہم، خواتین محقین کے مبینہ رجحانات کے بارے میں ان کے تبصرے کے ردعمل کے بعد، عملی طور پر 72 سالہ نوبل انعام یافتہ سائنس دان کا کیرئیرختم ہو گیا ہے۔

سائنسدان نے بدھ کے روز کہا تھا کہ انھوں نے یہ جملہ سنجیدگی سے نہیں کہا تھا۔ تاہم، انھوں نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی تھی اور جمعرات کو انھوں نے یونیورسٹی کالج لندن اور رائل سوسائٹی کے عہدوں سے استعفی دے دیا تھا۔

سر ٹم ہنٹ نے 2001ء میں فزیالوجی میں خلیوں کی تقسیم کےعمل پر تحقیق کرنے کے لیے نوبیل انعام جیتا تھا۔

بورس جانسن نے پروفیسر ٹم ہنٹ کی حمایت میں ٹیلی گراف میں لکھا ہےکہ سر ٹم ہنٹ نے ساری زندگی جو مشاہدہ کیا تھا، اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا؛ جس پر وہ اس طرح کے سلوک کے مستحق نہیں ہیں، انھیں ان کے دونوں عہدوں پر بحال کیا جانا چاہیئے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہےکہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں آسانی سے رو پڑتی ہیں اور اس قسم کے صنفی فرق پر بات کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔

سرٹم ہنٹ نے کہا کہ انھوں نے اپنے تبصرے پر معافی طلب کر لی ہے۔ لیکن، اس کے باوجود انھیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

انھوں نے ’دی گارڈین‘ اخبار سے ایک انٹرویو میں کہا کہ 'مجھے ہر چیز سے محروم کر دیا گیا ہے جو میں سائنس میں کر رہا تھا، میرا مزید کوئی اثر ورسوخ نہیں رہا۔‘

خواتین سائنس دانوں نے پروفیسر ٹم ہینٹ کے تبصرے کے جواب میں سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی تصاویر ارسال کی ہیں۔

خواتین کی طرف سے ایک ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے واحد جنس کی تجربہ گاہ سے سائنس کو کیا فائدہ پہنچے گا، اس کے جواب میں اپنی تجربہ گاہ میں کام کرتے ہوئے تصاویر ارسال کی ہیں۔

ایک خاتون سائنس دان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'واقعی ان کا تجربہ گاہوں میں کام کرنا زیادہ مشکل ہے، کیونکہ وہاں میں مرد سائنس دانوں کی توجہ مبذول کر لیتی ہوں۔'

ایک اور خاتون محقق نے لکھا کہ 'ممکن ہے کہ میں اپنے ساتھی ماہر ارضیات سائنس دانوں کی زندگی نہیں بچا سکوں، کیونکہ میں اپنی ٹیم کے کام میں خلل پیدا کرتی ہوں'۔

اگرچہ کچھ مبصرین کی طرف سے ان کے استعفی کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ تاہم، اس اہم معاملے کا احاطہ نہیں ہوا کہ سائنس میں تقریباً ہر سطح پر خواتین سائنس دانوں کی نمائندگی اتنی خال خال کیوں ہے۔

ایک بین الاقوامی تنظیم او۔ای۔سی۔ڈی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، لڑکیوں میں سائنس اور ریاضی میں اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے، جب کہ ان کے نتائج لڑکوں جتنے اچھے ہوتے ہیں۔

اسی طرح، طلبہ کے ایک بین الاقوامی امتحان ’پیسا‘ کے اسکور میں برطانوی لڑکیاں لڑکوں سے پیچھے ہیں، جبکہ سائنس کے مضامین میں لڑکوں کا تناسب لڑکیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

XS
SM
MD
LG