رسائی کے لنکس

اردن میں انتخابات - آزاد امیدوار توجہ کا مرکز


اخوان المسلمین کے سیاسی شعبے کا اعتراض ہے کہ انتخابات میں مختلف پارٹیوں کی بجائے آزاد امیدواروں پر زیادہ توجہ دی گئی ہے

اُردن کے عوام نے بدھ کے روز نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے۔ اردن میں نئی پارلیمنٹ کا انتخاب ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب مملکت کے حالات میں تبدیلی و اصلاحات کے لیے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔

بہت سے اسلام پسند سیاستدانوں کی جانب سے اُردن کی نئی پارلیمنٹ کے لیے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے بعد اس بارے میں خدشات سر اٹھا رہے ہیں کہ نئی حکومت کس حد تک اثر و رسوخ والی ہوگی۔

اخوان المسلمین کا سیاسی شعبہ The Islamic Action Front اردن میں اصلاحات کے لیے آواز اٹھانے میں پیش پیش رہا ہے۔

لیکن وزیر ِ اعظم عبداللہ اینسور کا کہنا ہے کہ تبدیلی ضرور آئے گی۔ ان کے الفاظ میں، ’مجھے پورا یقین ہے کہ اردن کے لوگ پُراعتماد ہیں کہ آج سے ہم نے سیاسی اصلاحات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے‘۔

اردن کے وزیر ِ اعظم نے ووٹنگ کے عمل کو ’شفاف‘ قرار دیا۔

الیکشنز کا جائزہ لینے والے غیر ملکی مبصرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتخابات کے دوران چند معمولی خلاف ورزیاں ہوتی دیکھی ہیں۔ جیسا کہ پولنگ سٹیشنز پر انتخابی مہم چلانا، وغیرہ۔ لیکن، مجموعی طور پر انتخابات کا عمل ٹھیک رہا۔

الیکشنز میں 1400 سے زائد امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان انتخابات میں پارلیمنٹ میں 108 نشستیں عام امیدواروں کے لیے مخصوص ہیں، جبکہ 27 نشستیں مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ 15 اضافی نشستیں خواتین سیاستدانوں کے لیے مخصوص ہیں۔

اخوان المسلمین کے سیاسی شعبے کا اعتراض ہے کہ انتخابات میں مختلف پارٹیوں کی بجائے آزاد امیدواروں پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق، یہ نظام مختلف قبائلی اور دیہی اثرورسوخ رکھنے والے ایسے عناصر کو اخوان المسلمین پر فوقیت دیتا ہے جن کی اکثریت حکومت نواز رائے رکھتی ہے۔

گذشتہ چند مہینوں کی اس حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے، جس کی وجہ سے اردن میں پارلیمنٹ کے انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا، اخوان المسلمین کے سیاسی شعبے کے جنرل سیکریٹری نمر الوصاف کا کہنا تھا کہ اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں جمہوریت کے امکان اور تبدیلی کے لیے کوشش کی جارہی ہیں، جہاں تمام اختیارات بادشاہ کے پاس ہیں۔

ان کے مطابق، ’پارلیمنٹ آئینی حدود میں رہتے ہوئے کوئی اصلاحات نافذ نہیں کر سکتی۔ لہذا، پارلیمنٹ میں جانا اور تبدیلی لانے کے بارے میں بات کرنا بے کار ہے‘۔

اسلام پسند سیاستدانوں نے اردن میں سنہ2010 میں ہونے والے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔

مصر اور تیونس میں اخوان المسلمین اور دیگر اسلام پسند سیاستدانوں کو سابق سیکولر لیڈروں کی جانب سے شخصی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے برعکس اردن میں اخوان المسلمین کئی عشروں تک بادشاہی نظام کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی ہے۔ اسلام پسند لیڈروں نے زور دیا کہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ شاہ عبداللہ کی بادشاہت ختم کی جائے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں ایسی آئینی اصلاحات نافذ کی جائیں جس سے عوام کی نمائندہ حکومت کو کام کرنے کا موقع ملے۔

اس بارے میں مزید تفصیلات مدیحہ انور کی اس رپورٹ میں:
XS
SM
MD
LG