رسائی کے لنکس

اردن کے عوام تبدیلی کے خواہاں


اردن میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد حکومت مخالف مظاہرے کا ایک منظر

اردن میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد حکومت مخالف مظاہرے کا ایک منظر

اخوان المسلمین کے مخالفین کی نظر میں اردن میں اور اس پورے علاقے میں اسلام پسندوں کی مقبولیت کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے عرب دنیا کی امنگوں اور آرزوؤں کو ہائی جیک کر لیا ہے۔

اردن کی بادشاہت میں زور دار سیاسی ڈائیلاگ کی اجازت نہیں دی جاتی لیکن اخوان المسلمین جو ہمسایہ ملکوں میں کئی عشروں سے ممنوع رہی ہے، اردن میں کافی عرصے سے سرگرم ہے۔ اردن کے لوگ اب اپنے ملک کی حکومت میں زیادہ نمائندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اخوان المسلمین اب اور زیادہ فعال کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

اردن کے لوگوں میں تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ اقتصادی مسائل ہیں۔ کبھی کبھی لوگوں کی بے چینی بادشاہ کے لیے براہِ راست چیلنج کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

لیکن اخوان المسلمین جو اس بادشاہت میں سب سے زیادہ منظم سیاسی طاقت ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں حکومت کی تبدیلی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ نمارالآصف اخوان کے سیاسی شعبے میں اعلیٰ عہدے دار ہیں۔ وہ کہتےہیں’’ہم ایک پُر امن تحریک ہیں اور ہم بادشاہت کے تلے رہتے ہوئے، اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘‘

1940ء کی دہائی میں اپنے قیام کے بعد سے ہی، اخوان المسلمین کی اردن کی شاخ اپنی سرگرمیوں میں بہت محتاط رہی ہے۔ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے، اس نے آہستہ آہستہ اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن عرب موسم ِ بہار اور ہمسایہ ملک شام میں خانہ جنگی کے ساتھ ، اخوان المسلمین زیادہ سرگرم ہو گئی ہے۔

القدس سینٹر فار پولیٹیکل اسٹڈیز کے سیاسی تجزیہ کار اوریب الرانتاوی کہتے ہیں’’انھوں نے ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ اس انتظار میں صرف کیا کہ شام میں کیا ہوتا ہے کیوں کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر وہاں اخوان المسلمین کو اقتدار مل جاتا ہے، تو اس طرح ان کی طاقت میں بھی خود بخود اضافہ ہو جائے گا۔‘‘

اردن میں پناہ لینے والے شامیوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود، اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ وہ اس جھگڑے میں سرگرمی سے حصہ نہیں لے رہی ہے، اگرچہ اس نے خود کو حالات سے باخبر رکھا ہے۔

الآصف کہتے ہیں کہ وہ اس جہاد میں حصہ لینے کے لیے اپنے آدمی نہیں بھیجتے، اگرچہ وہ کہتےہیں کہ انہیں اس کا حق حاصل ہے۔

الرانتاوی کہتےہیں کہ کسی بھی قسم کی حوصلہ افزائی نا عاقبت اندیشی کی بات ہو گی۔ جیسا کہ سعودی عرب میں ہوا، کٹّر جنگجو، انہیں لوگوں کے خلاف ہو جائیں گے جنھوں نے ان کی حمایت کی تھی۔

’’وہ بار بار وہی راستہ اختیار کرتے رہتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ نتیجہ مختلف ہو گا۔ یہ وہی احمقانہ کھیل ہے جو بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔‘‘

اخوان المسلمین کے اصل مقاصد واضح نہیں ہیں۔ اس کے خیالات کٹر اسلام پسندوں جیسے ہیں۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بات چیت سے انکار کرتی ہے، اگرچہ اردن اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ موجود ہے۔

نمار الآصف کہتے ہیں کہ اس موقف میں تبدیلی آ سکتی ہے اگر وہ زیادہ سرگرم سیاسی کردار ادا کرنے لگیں۔’’حالات بدل جاتے ہیں۔ آپ چاہیں یا نہ چاہیں، دنیا کے ساتھ چلنا ہی پڑتا ہے۔‘‘

لیکن اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے وعدے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مستقبل میں تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ الآصف کا کہنا ہے’’ہو سکتا ہے کہ ہم اردن کے لوگوں میں ریفرنڈم کرائیں، اور وہ امن معاہدے کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔‘‘

اردن کے بیشتر لوگ فلسطینی ہیں۔ اس لیے کچھ تبدیلی نا گزیر ہو گی۔ اخوان المسلمین کے مخالفین کی نظر میں اردن میں اور اس پورے علاقے میں اسلام پسندوں کی مقبولیت کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے عرب دنیا کی امنگوں اور آرزوؤں کو ہائی جیک کر لیا ہے۔

الرانتاوی اس صورتِ حال کے لیے سعودی عرب اور قطر کے مالدار اور قدامت پسند ملکوں کو الزام دیتے ہیں۔

’’میرے نقطۂ نظر سے، وہ عرب موسم بہار کے انقلاب کی مخالف قوتوں کا حصہ ہیں۔‘‘

اخوان المسلمین سازش کے تصور کو مسترد کرتی ہے، اور اپنے عروج کو عام لوگوں کے عزم و حوصلے کا مظہر قرار دیتی ہے۔
XS
SM
MD
LG