رسائی کے لنکس

دفتر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت کےایک ترجمان نے کہا کہ حکومت نے اس کارروائی سے قبل ان کی جماعت سے اس بارے میں کوئی رابطہ نہیں کیا تھا اور ان کے لیے یہ کارروائی بالکل غیر متوقع ہے۔

اردن میں پولیس نے اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون کے صدر دفتر کو سِیل کردیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اخوان کے رہنماؤں نے اپنی جماعت رجسٹرڈ کرنے کے لیے حکومت کو درخواست نہیں دی تھی جس پر اس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

بدھ کو دارالحکومت عمّان میں واقع اخوان کے صدر دفتر کو سِیل کرنے کی کارروائی میں اردن کی پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری شریک تھی۔

پولیس حکام نے دفتر کو سِیل کرنے سے قبل وہاں موجود جماعت کے عہدیداران اور ملازمین کو عمارت سے نکال دیا تھا۔

دفتر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت کےایک ترجمان نے کہا کہ حکومت نے اس کارروائی سے قبل ان کی جماعت سے اس بارے میں کوئی رابطہ نہیں کیا تھا اور ان کے لیے یہ کارروائی بالکل غیر متوقع ہے۔

ترجمان نے کہا کہ دفتر کو بغیر کی انتباہ کے سِیل کرکے اردنی حکومت نے ایک جارحانہ قدم اٹھایا ہے جو سراسر غیر قانونی اور غیر جمہوری ہے۔

خیال رہے کہ اردن کی اخوان المسلمون چند ماہ قبل اختلافات کے باعث دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی اور تنظیم کے ایک دھڑے نے خود کو مصر کی اخوان المسلمون کے نظریات سے وابستہ رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ عمان میں جماعت کا صدر دفتر بھی مصر کی جماعت کے ساتھ اظہارِ وفاداری کرنے والوں کے کنٹرول میں تھا۔

مصر اخوان المسلمون کی جائے پیدائش ہے جو عرب دنیا کی سب سے بڑی اور منظم اسلامی جماعت تصور کی جاتی ہے۔ لیکن 2013ء کی فوجی بغاوت کے بعد سے اخوان پر مصر میں پابندی عائد ہے اور اس کے ہزاروں رہنما اور کارکنان مختلف الزامات میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اردن کے ایک انگریزی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اخوان کے دونوں دھڑے پارٹی کی قیادت اور دفتر کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے کوشاں تھے لیکن دفتر جس دھڑے کے قبضے میں تھا اس نے اپنی جماعت رجسٹرڈ کرنے کے لیے حکومت کو درخواست جمع نہیں کرائی تھی۔

اخبار کے مطابق جماعت سے الگ ہونے والے دھڑے نے، جس نے مصر کی اخوان کے ساتھ اعلانِ لاتعلقی کیا ہے، حکومت کو لائسنس کے حصول کی درخواست جمع کرادی تھی۔

اردن میں اخوان المسلمون کا قیام مصر میں جماعت کے قیام کے 18 برس بعد 1946ء میں عمل میں آیا تھا جب کہ اس کو اردن کام کی اجازت اس وقت کے بادشاہ شاہ عبداللہ نے 1953ء میں دی تھی۔ اردن میں اخوان کا سیاسی بازو 'اسلامک ایکشن فرنٹ' کے نام سے سرگرم ہے جو اردن میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی اور موثر جماعت ہے۔

عرب ٹی وی 'الجزیرہ' نے، جسے کئی مبصرین اخوان المسلمون کا حامی سمجھتے ہیں، نے اپنی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ اردن کی حکومت بھی مصر کی طرح اخوان پر پابندی عائد کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG