رسائی کے لنکس

رہائی کے بعد اردنی سفیر کی عمان آمد


فواز العیطان

فواز العیطان

سفارت کار، فواز العیطان نے کہا کہ اس ابتلا کا خاتمہ تب ہوا جب اردن اور لیبیا کے ثالث مل بیٹھے، اور یوں پُرامن طور پر اس تنازعے کا باعزت اور خیر و خوبی کے ساتھ حل تلاش کر لیا گیا

لیبیا میں اردن کے سفیر کو لگ بھگ ایک ماہ تک اپنے اغواکاروں کی حراست میں رہنے کے بعد منگل کو رہا کیا گیا۔

ایڈورڈ یرانیان نے قاہرہ سے اپنی رپورٹ میں’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ سفارت کار، فواز العیطان کی عمان کے چھوٹے سے فوجی ہوائی اڈے پر آمد پر، اردن کے حکام اور اہل خانہ نے اُن کا تالیاں بجا کر خیر مقدم کیا، جب اُنھوں نےلیبیا میں چار ہفتوں کی قید کو ’مشکل‘ مرحلہ قرار دیا۔

یہ سخت آزمائش جھیلنے کے باوجود، ہوائی اڈے سے روانگی سے قبل العیطان نے صحافیوں سے بات چیت کی۔

اُنھوں نے کہا کہ اس ابتلا کا خاتمہ تب ہوا جب اردن اور لیبیا کے ثالث مل بیٹھے، اور یوں پُرامن طور پر اس تنازعے کا باعزت اور خیر و خوبی کے ساتھ حل تلاش کر لیا گیا۔ تاہم، اُنھوں نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ بہرحال اغوا اذیتناک معاملہ ہی ہوتا ہے۔

العیطان نے اپنی حراست کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک ’اتفاقیہ‘ بات تھی، اور یہ کہ اردن اور لیبیا کے مابین کسی طرح کے کوئی تنازعات نہیں ہیں۔ اُنھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں اردن میں قید ایک شخص کے لیبیا میں خاندان نے یرغمال بنایا ہوا تھا۔

محمد الدرسی لیبیا کے شہری ہیں جو سنہ 2007سے اردن کی جیل میں بند ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سفیر العیطان کے بدلے اُنھیں گذشتہ ہفتے کے اواخر میں رہا کیا گیا تھا۔ درسی کو ملک کے کلیدی ہوائی اڈے کو بم سے اڑانے کی سازش کے جرم میں اردن میں قید کیا گیا تھا۔

اردن کے وزیر خارجہ ناصر جودہ نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ العیطان کی رہائی کے بدلے کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کی رہائی کے حصول کے لیے اردن نے لیبیا کی حکومت کے ساتھ بات چیت کی۔

اُنھوں نے کہا کہ ریاض کنوینشن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، اردن نے اپنے ملک میں قید محمد الدرسی کو حوالے کیا۔ کنوینشن کے تحت اِس بات کی گنجائش ہے کہ مجرم باقی سزا اپنے ہی ملک کی قید میں کاٹ سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG