رسائی کے لنکس

پاناما پیپرز، دستاویزات کی دوسری قسط جاری


مرینہ واکر

مرینہ واکر

تفتیشی صحافیوں پر مبنی بین الاقوامی کنسورشیم کا کہنا ہے کہ پیر کو جاری ہونے والی دستاویزات کے نتیجے میں ’’اِس سے بھی بڑے اثرات نمودار ہونے کا امکان ہے‘‘۔ تنظیم کے پاس پاناما کے اُسی ادارے سے تعلق رکھنے والے ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات ہیں، جو ابتدائی طور پر صرف صحافیوں کے حوالے کی گئی ہیں

’آئی سی آئی جے‘ نے ’آف شور‘ اداروں سے متعلق ڈیٹابیس کے مزید راز جاری کر دیے ہیں، اس توقع کے ساتھ کہ اِس سے ٹیکس بچانے کے حربوں کے حوالے سے زیادہ تفصیلات میسر آئیں گی۔

گذشتہ ماہ ’پاناما پیپرز‘ پر مبنی کہانیوں کے ابتدائی سلسلے کا افشا ہوا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ اپنی دولت چھپانے کے لیے عالمی سطح کی اشرافیہ نے کس طرح بیرون ملک اداروں کی مدد سے ٹیکس بچایا، جس کے نتیجے میں آئس لینڈ اور اسپین کے اعلیٰ سطحی حکام زد میں آئے، برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے لیے شرمندگی کا باعث بنا، جب کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور اُن کے ساتھیوں کو مبینہ منی لانڈرنگ پر جواب طلبی کا سامنا رہا۔

تفتیشی صحافیوں پر مبنی بین الاقوامی کنسورشیم کا کہنا ہے کہ پیر کو جاری ہونے والی دستاویزات کے نتیجے میں ’’اِس سے بھی بڑے اثرات نمودار ہونے کا امکان ہے‘‘۔ تنظیم کے پاس پاناما کے اُسی ادارے سے تعلق رکھنے والے ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات ہیں، جو ابتدائی طور پر صرف صحافیوں کے حوالے کی گئی ہیں۔

مرینہ واکر گویرا ’آئی سی آئی جے‘ کی معاون سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے پیر کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’میرے خیال میں، اِن میں سب سے بڑی معلومات یہ پنہاں ہے کہ ہم اسے شہریوں کو فراہم کر رہے ہیں‘‘۔

پیر کے روز، ایسٹرن ٹائم کے مطابق دو بجے شام، ’آئی سی آئی جے‘ نے اپنی ویب سائٹ تک رسائی کھول دی، جہاں سے 200000 آف شور اکاؤنٹس کا ڈیٹابیس تلاش کیا جا سکتا ہے، جن کاؤنٹ ہولڈروں کا تعلق 200 سے زائد ملکوں یا علاقوں سے ہے۔ اس ڈیٹابیس سے پاناما پیپرز کی دستاویزات کی معلومات میسر آتی ہے جو لا فرم، ’موساک فونسیکا‘ کے مطابق، ادارے کی جانب سے ٹیکس کے محفوظ بین الاقوامی ٹھکانوں سے چرا کر اپنے پاس رکھی گئی تھی۔

اس معلومات کو ’ملک، نام، ایڈریس‘ ڈال کر تلاش کیا جاسکتا ہے۔ نازک قسم کی اطلاعات، جیسا کہ بینک اکاؤنٹس اور ذاتی شناخت کو ہذف کیا گیا ہے۔

واکر گویرا ’پاناما پیپرز‘ کے تفتیشی پراجیکٹ کی شریک منتظم ہیں، جس میں ابتدائی طور پر تقریباً 80 ممالک سے تعلق رکھنے والے 370 صحافی اکٹھے ہوئے، جو 100 سے زائد اخباری تنظیموں سے منسلک ہٰں۔ اس سے متعلق کہانیاں اپریل کے اوائل میں عام ہونا شروع ہوئیں۔

اُن کی رپورٹنگ پر مبنی معلومات سے پتا چلا کہ طاقت ور یا مقبول ’آف شور‘ اداروں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ اِن میں سے 140 سیاست دان ہیں، جن میں 12 موجودہ یا سابق سیاسی قائدین؛ ارب پتی لوگ، کھیلوں کی دنیا کے ستارے، منشیات کے اسمگلر اور مافیا کے ارکان شامل ہیں۔

اِسی فہرست میں کم از کم 33 افراد اور کمپنیاں ایسی ہیں جن پر امریکی حکومت بندش لگا چکی ہے، چونکہ اُن کا تعلق میکسیکو کے منشیات فروشوں یا پھر مشکوک قماش کے ملکوں جیسا کہ شمالی کوریا اور ایران سے یا پھر غلط کاری پر منبی کاروبار سے ظاہر ہوچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG