رسائی کے لنکس

پاکستانی صحافی کے قتل کی مذمت


صحافیوں کا احتجاج (فائل فوٹو)

صحافیوں کا احتجاج (فائل فوٹو)

صحافیوں کے حقو ق اور اُن کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی دو بڑی بین الاقوامی تنظیموں ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آرایس ایف)‘ اور ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے)‘ نے الگ الگ بیانات میں پاکستان میں صحافی کے قتل کے تازہ واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مطالبے کو دہرایا ہے۔

کراچی میں گذشتہ ہفتے’ ایکسٹرا نیوز‘ نامی ایک اردو اخبار کے لیے کام کرنے والے صحافی زمان علی کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد آر ایس ایف کے بیان کے مطابق گذشتہ 13 ماہ میں پاکستان میں ہلاک کیے جانے والے صحافیوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے لیکن حکام ان واقعات میں ملوث افراد کا پتہ لگانے میں تاحال ناکام رہے ہیں۔

نیویارک میں قائم سی پی جے نے اپنے بیان میں کراچی پولیس سے کہا ہے کہ وہ چالیس سالہ زمان کے قتل کے پس پردہ حقائق جاننے کے لیے تفتیش کومنتقی انجام تک پہنچائے۔ تنظیم نے اس امرپر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ 2010 ء پاکستان میں صحافیوں کے لیے سب سے ہلاکت خیز سال تھا۔

دونوں تنظیموں نے اس سال جنوری میں کراچی میں ہی پاکستان کے نجی ٹی وی چینل’ جیو‘ کے رپورٹر ولی خان بابر کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں بھی گولیا ں مار کر ہلاک کیا گیا تھا لیکن تاحال اُن کے قاتلوں کو بھی گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔

XS
SM
MD
LG