رسائی کے لنکس

صحافی زمان محسود قتل کی جامع تحقیقات کی جائیں: صحافتی تنظیمیں

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیویارک میں قائم سی پی جے کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈینیٹر باب ڈیٹز نے کہا کہ ان کے قتل کا واقعہ ’’تفتیشی حکام کی جانب سے مکمل توجہ کا مستحق ہے۔ پاکستان صحافیوں کے قتل میں سزا سے استثنیٰ میں مزید اصافے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘

صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے پاکستانی صحافی زمان محسود کے قتل کی سخت مذمت کی ہے اور اس کیس کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

نیویارک میں قائم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، بیلجیم میں قائم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور پاکستان کی فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اپنے الگ الگ بیانات میں زمان محسود کے قتل پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

زمان محسود اردو روزنامہ ’امت‘ کے لیے کام کرتے تھے اور ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے جنوبی وزیرستان چیپٹر کے صدر تھے۔ وہ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق سے بھی وابستہ تھے۔ انہیں منگل کو خیبر پختونخوا کے علاقے ٹانک میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق انہیں پانچ گولیاں لگیں اور وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

خبررساں ادارے روئیٹرز کے مطابق طالبان کمانڈر قاری سیف اللہ سیف نے صحافی کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ روئیٹرز کو دیے گئے بیان میں قاری سیف اللہ سیف نے کہا کہ زمان محسود کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ اُن خلاف لکھ رہے تھے۔ طالبان کمانڈر نے دیگر صحافیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی۔

نیویارک میں قائم سی پی جے کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈینیٹر باب ڈیٹز نے کہا کہ زمان محسود کے قتل کا واقعہ ’’تفتیشی حکام کی جانب سے مکمل توجہ کا مستحق ہے۔ پاکستان صحافیوں کے قتل میں سزا سے استثنیٰ میں مزید اصافے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر رانا عظیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ زمان محسود کو طالبان کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کا سامنا تھا مگر انہیں کسی قسم کی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا پاکستان میں سچ لکھنا جرم بن چکا ہے۔

’’ہمیں دہشت گردوں سے بھی خطرہ ہے، ہمیں حکومتی ایجنسیوں سے بھی خطرہ ہے، ہمیں سیاستدانوں سے بھی خطرہ ہے۔ جس کے خلاف ہم جب لکھتے ہیں وہی ہمارے خلاف ہو جاتا ہے۔ ہم اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔‘‘

رانا عظیم نے بتایا کہ ان کی تنظیم عالمی اداروں کے ساتھ مل کر ملک میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے مہم چلائے گی۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ملک میں دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام افراد کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

سی پی جے کے مطابق 1992 سے اب تک اس شعبے سے تعلق رکھنے والے82 افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔ تاہم اب تک ایک صحافی کے سوا کسی کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔

سی پی جے کی طرف سے 2008 سے جاری ہونے والی ان ممالک فہرست میں پاکستان کا نام ہر سال شامل رہا ہے جن میں صحافیوں کے قاتلوں کو سزا سے استثنیٰ حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG