رسائی کے لنکس

سلیم شہزاد کاقتل ’انتہائی قابلِ مذمت‘ فعل: پی ایف یو جے

  • نفیسہ ہودبھائے

Pakistan Federal Union of Journalism Logo

’یہاں کچھ پتا نہیں کون کس کو مارے جارہا ہے۔ یہاں ڈرگ مافیا ہے۔ لینڈ مافیا ہے۔ ایجنسیاں ہیں۔ اور مختلف ادارے ہیں جو یہ کام کررہے ہیں۔ انٹرنیشنل ایجنسیاں یہاں کام کر رہی ہیں‘

منگل کو ایشیا ٹائمزآن لائن کے بیورو چیف سید سلیم شہزاد کواسلام آباد کے قریب مردہ پایا گیا۔ شہزاد کی لاش اُن کی گاڑی کے قریب سرائےعالمگیر میں ملی، جہاں اُن کےرشتہ داروں نےاُنھیں شناخت کیا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر پرویز شوکت نے سلیم شہزاد کے مشتبہ حملہ آوروں کے بارے میں کہا کہ یہ واقعہ ’انتہائی قابلِ مذمت‘ ہے۔

اُن کے الفاظ میں:’یہاں کچھ پتا نہیں کون کس کو مارے جارہا ہے۔ یہاں ڈرگ مافیا ہے۔ لینڈ مافیا ہے۔ ایجنسیاں ہیں۔ اور مختلف ادارے ہیں جو یہ کام کررہے ہیں۔ انٹرنیشنل ایجنسیاں یہاں کام کر رہی ہیں۔‘

پرویز شوکت نے ایک منصفانہ انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ،’سلیم شہزاد کی ہلاکت سریحاً ظلم ہے۔ ہم اِس پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔ اِس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔‘

دوسری طرف، پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم’ ہیومن رائٹس واچ‘ کے سربراہ علی دایان حسن کا کہنا تھا کہ شہزاد کے قتل کا شک خفیہ ایجنسیوں پر جاتا ہے۔

اُن کے بقول، ہمارے پاس اِس بات کا تو ثبوت نہیں ہے کہ آئی ایس آئی نے سلیم شہزاد کو اٹھایا تھا مگر ہمارے پاس اِس بات کا ثبوت ضرور ہےکہ سلیم شہزاد کو بدستورآئی ایس آئی سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔’جب بھی کوئی شخص لکھتا ہے تو کچھ کو وہ بات اچھی لگتی ہے، کچھ کو بری۔ مگر جس طرح سے اُن کا قتل ہوا، اگر کسی نے اُن کی صحافت کی بنیاد پرایسا کیا ہے، تو پھر یہ بہت ہی گھناؤنی بات ہے۔ جِن لوگوں نے یہ قتل کیا ہے اُن کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ضروری ہے۔‘

سینئرصحافی شمیم الرحمٰن نے سوال کیا کہ، سلیم شہزاد کے قاتلوں کو کون سزا دے گا؟

اُنھوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے جِن لوگوں نے قتل کیا اُن کو یہ تاثر ملا ہو کہ سلیم شہزاد کو بہت زیادہ علم ہے اور اگر ہم نے ’ٹارچر‘ کرکے اُسےچھوڑ دیا تو وہ ہمارے متعلق لکھیں گے۔ اُن کے الفاظ میں:’جو لوگ انصاف کریں گے وہ خود ہی اتنے مجبور ہیں کہ مجھے ترس آتا ہے کہ کون اُن کا احتساب کرے گا۔‘

اِس کے جواب میں، فاٹا کے سابق سکیورٹی چیف برگیڈیئر (ر) محمود شاہ کا کہنا تھا کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ یہ قتل کس نے کیا ہے۔ بہرِ کیف ، اگر یہ ایجنسیوں کا فعل ہے تو اُنھیں بھی جوابدہ ہونا چاہیئے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ یہ بہت قابلِ اعتراض بات ہے ، پاکستان کی سکیورٹی سے متعلق غلط باتیں ہیں تو اُن کو گرفتار کرسکتے ہیں اور عدالت میں پیش کرسکتے ہیں، اور پھر عدالت جو بھی فیصلہ دے۔۔۔

برگیڈیئر (ر)محمود شاہ کے مطابق، یہ ملک قانون کے تحت چل رہا ہے۔ ’میں نہیں سمجھتا کہ کس کو اِس بنا پر قتل کیا جاسکتا ہے اور اگر کیا ہے تو یہ بڑا فِٹ کیس ہے کہ سپریم کورٹ اِس کا ’ سو موٹو ایکشن‘ لے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا بنیادی کام لوگوں کو سکیورٹی فراہم کرنا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG