رسائی کے لنکس

روسی طیارے کے حادثے میں داعش کا کردار خارج از امکان نہیں: پاکستانی تجزیہ کار

  • نفیسہ ہودبھائے

اردو سروس کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں ریٹائرڈ ونگ کمانڈر نسیم احمد نے اس خیال کا اظہار کیا کہ دہشت گردی سے متعلق واقعات کی چھان بین کرنے میں تفتیش کاروں کو، بقول اُن کے، ’دشواری پیش آتی ہے، جِن میں طیاروں کے گر کر تباہ ہونے کے واقعات بھی شامل ہیں‘

پاکستان میں ہوابازی اور فضائی حادثوں کی تفتیش کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ مصر میں سینائی کے اوپر ایک روسی طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے معاملے میں داعش کے کردار کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

یاد رہے کہ روسی جیٹ طیارے کے حادثے میں 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ حادثہ گذشتہ سنیچر کو پیش آیا تھا۔

اردو سروس کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں ریٹائرڈ ونگ کمانڈر نسیم احمد نے اس خیال کا اظہار کیا کہ دہشت گردی سے متعلق واقعات کی چھان بین کرنے میں تفتیش کاروں کو، بقول اُن کے، ’دشواری پیش آتی ہے، جِن میں طیاروں کے گر کر تباہ ہونے کے واقعات بھی شامل ہیں‘۔

اُنھوں نے اِس جانب توجہ دلائی کہ ایسے واقعات ماضی میں افغانستان، بھارت، روس میں ہوتے رہے ہیں، اور اُن میں پانام کے طیارے کا مشہور حادثہ بھی شامل ہے۔

اُن کے مطابق، ’مصر اپنے فضائی علاقے میں روسی طیارے کےگرنے کے واقعے کی اسی انداز میں تفتیش کر رہا ہے جِس طرح ملائیشیا نے اپنے ایک مسافر بردار طیارے کی فضا میں گمشدگی کی چھان بین کی تھی‘۔

ونگ کمانڈر نسیم احمد نے اِس خیال کا بھی اظہار کیا کہ، بقول اُن کے، ’چونکہ روسی طیارے کی تباہی کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے، اس لیے اِس سے تفتیش کی رپورٹ کے برسرعام ہونے میں تاخیر ہو سکتی ہے‘۔

تفصیل کے لیے درج ذیل آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG