رسائی کے لنکس

مذہب کے نام پر دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائیگا: تجزیہ کار

  • بہجت جیلانی

فائل

فائل

تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ پہلا موقع ہے جب مسلمان ملکوں کا اتحاد انتہا پسندوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ مذہب کے نام پر دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا

تجزیہ کاروں نے یمن میں جاری بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا کہ سعودی عرب اور ایران کو اس قبائلی ڈھانچے والے ملک میں امن اور استحکام لانے کے لئے کسی نوعیت کی افہام و تفہیم پر پہنچنا ہوگا، تاکہ تشدد پر قابو پایا جا سکے۔

اُنھوں نے اس رائے کا اظہار بدھ کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں بات کرتے ہوئے کیا۔

امریکی وزیر دفاع کی طرف سے انتہا پسندی کے خلاف کوششیں تیز کرتے ہوئے امریکہ کا ساتھ دینے سے متعلق بیان پر تجزیہ کاروں نے کہا کہ سعودی عرب کی قیادت میں 34 مسلمان ملکوں کا اتحاد دہشت گردی کے مقابلے میں بہت مؤثر ثابت ہوگا۔

تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے جب مسلمان ملکوں کا اتحاد انتہا پسندوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ مذہب کے نام پر دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تجزیہ کار مزید کہتے ہیں کہ یہ اتحاد وسیع تر بنیادوں پر تشکیل ہوا ہے اور داعش، القائدہ اور بوکو حرام جیسے انتہا پسند گروپوں کا بخوبی مقابلہ کر سکے گا۔

تفصیل کے لیے منسلک وڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG