رسائی کے لنکس

داعش کے خاتمے کے لئے کثیر جہتی تعاون درکار ہے: تجزیہ کار

  • بہجت جیلانی

فائل

فائل

بنگلہ دیش میں داعش کے خلاف فتویٰ جاری کرنے اور پاکستان میں طالبان کی طرف سے ابو بکر البغدادی کو خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار جیسے اقدامات کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ جب تک سوچ نہیں بدلے گی ایسے اقدامات سے داعش کی بڑھتی ہوئی قوت کو روکنے میں اس وقت تک مدد نہیں مل سکتی

بنگلہ دیش میں داعش کے خلاف فتویٰ جاری کرنے اور پاکستان میں طالبان کی طرف سے ابو بکر البغدادی کو خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار جیسے اقدامات کے بارے میں تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے داعش کی بڑھتی ہوئی قوت کو روکنے میں اس وقت تک مدد نہیں مل سکتی جب تک کہ سوچ اور نظرئے میں واضح تبدیلی نہیں آئے گی؛ اور لوگ پوری دیانتداری سے دہشت گردی کے خلاف متحد نہیں ہوتے۔

بدھ کے روز وائس آف امریکہ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں تجزیہ کاروں نے ایسے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جو داعش کے خلاف جاری جنگ میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پرانی حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

اس لئے، بقول اُن کے، انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے وسیع تر بنیادوں پر کثیر جہتی اتحاد درکار ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ داعش کے خلاف قائم مختلف اتحادوں میں شامل ملکوں کو اپنے انفرادی مفادات بالائے طاق رکھتے ہوئے مشترکہ ہدف پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ دہشت گردی کو ختم کیا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ ان نئے خطوط پر کام کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے داعش کے خلاف متحد ہو جائیں۔

تفصیل کے لیے منسلک وڈیو رپورٹ سنئیے:

XS
SM
MD
LG