رسائی کے لنکس

مسلم ممالک اختلافات بھلا کر انتہاپسندی کا مقابلہ کریں: امریکی اسکالر

  • شہناز نفيس

فائل

فائل

ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کا، جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلام کے نام پر بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، بقول اُن کے، ’اسلام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ اسلام کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں‘

امریکہ میں مقیم ایک معروف مسلم اسکالر نے ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں پیرس میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’اسلام کی تعلیمات کے یکسر خلاف‘ قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ داعش کے جنگجوؤں کا، جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلام کے نام پر بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، بقول اُن کے، ’اسلام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ اسلام کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’دنیا بھر سے مسلمان علما، داعش کے خلاف فتوے دے چکے ہیں‘۔

تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ اسلامی ملکوں کی تنظیم، ’او آئی سی‘ اور تمام مسلمان ممالک کو چاہیئے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، اسلام کے نام پر اس خون ریزی کو روکنے کے لیے آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں۔

اسی پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے، لندن سے مشرق وسطیٰ کے امور کے ایک ماہر، بیرسٹر امجد ملک کا کہنا تھا کہ ’یورپی ممالک کو داعش کو ایک سنگین خطرہ سمجھتے ہوئے ایک جامع ایکشن پلان بنانا چاہیئے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’حالیہ حملوں سے پتا چلتا ہے کہ داعش اب شام یا عراق تک محدود نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ پھیل رہا ہے، جس کو روکنا انتہائی ضروری ہے‘۔

نیویارک سے ’کال فور ٹرانس نیشنل جہاد‘ کے مصنف، عارف جمال کا کہنا تھا کہ ’داعش دنیا کے لیے جتنا بڑا مسئلہ ہے، اس کو اس طرح نہیں لیا جا رہا ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کو نہ صرف داعش بلکہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی انتہا پسند تنظیمیں میں موجود ہیں، اُن کے خلاف ایک مضبوط لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ، اُن کے بقول، ’تمام تنظیموں کے نظریات ایک جیسے ہیں‘۔

تفصیل کے لیے، مندرجہ ذیل وڈیو رپورٹ سنئیے:

XS
SM
MD
LG